உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار کے بعد یوپی اور مغربی بنگال میں بھی اویسی بگاڑیں گے کھیل ، ان پارٹیوں کو خطرہ

    بہار الیکشن کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کی نظر بنگال پر، ایم ائی ایم کے لئے بنگال کی سیاست نہیں ہوگی آسان

    بہار الیکشن کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کی نظر بنگال پر، ایم ائی ایم کے لئے بنگال کی سیاست نہیں ہوگی آسان

    Bihar Assembly Election Result 2020 : اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے سیمانچل میں پانچ سیٹیں جیت کر کمال کردیا ہے ۔ انتخابی تجزیہ کار اویسی کی پارٹی کے اس کمال کا اندازہ نہیں لگا سکے ۔ جیت سے پرجوش اویسی نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ بنگال اور یوپی الیکشن بھی لڑوں گا ، کیا کرلیں گے آپ؟

    • Share this:
      بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج پر سب کی نگاہیں مرکوز تھیں ، قیاس آرائی کا بازار گرم تھا ، لیکن جب نتائج آئے تو انتخابی تجزیہ کار کی پیشین گوئیاں دھری کی دھری رہ گئیں ۔ این ڈی اے نے اپنا سکہ جمایا تو آر جے ڈی نے بھی پوری ٹکر دی ، لیکن ان سب کے درمیان اسد الدین اویسی کی پارٹی نے سیمانچل میں پانچ سیٹیں جیت کر کمال کردیا ۔ انتخابی تجزیہ کار اویسی کی پارٹی کے اس کمال کا اندازہ نہیں لگاسکے ۔ دراصل حساب یہ لگایا جارہا تھا کہ سیمانچل میں مسلم آبادی زیادہ ہے ، ایسے میں عوام این ڈی اے کو شکست دینے کیلئے ووٹ کریں گے اور اس کا فائدہ مہاگٹھ بندھن کو ہوگا ، لیکن اویسی کی جھولی میں اتنی سیٹیں آئیں گی ، اس کی امید کسی کو نہیں تھی ۔

      مہاگٹھ بندھن کے سربراہ تیجسوی یادو اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی مسلسل اویسی پر ووٹ کاٹنے کا الزام لگاتے آرہے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کے بھی الزامات کافی لگائے گئے ، اب جیت سے پرجوش اویسی نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بنگال اور یوپی کا الیکشن بھی لڑوں گا ، کیا کرلیں گے آپ ؟ الیکشن لڑنا ہمارا کام ہے اور ہمیں یہ حق جمہویت نے دیا ہے ۔

      مغربی بنگال میں تقریبا 30 فیصد مسلم آبادی ہے ۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ریاست کی 42 میں سے 18 سیٹیں بی جے پی نے جیتی تھیں ۔ ووٹ فیصد میں حکمراں پارٹی ٹی ایم سی اور بی جے پی میں معمولی فرق رہا تھا ۔ جہاں بی جے پی کو ۔۔۔۔ فیصد ووٹ ملے تھے تو وہیں ٹی ایم سی کو ۔۔۔۔ فیصد ووٹ ملے تھے ۔ اب ممتا کیلئے اویسی چیلنج ثابت ہوسکے ہیں ۔ بہار میں جس طرح سے مسلمانوں نے اویسی کی پارٹی کو ووٹ دیا ، اس سے صاف ہے کہ اب ملک میں مسلمان اویسی کو متبادل کے طور پر دیکھنے لگے ہیں ۔ ایسے میں اگر مغربی بنگال میں اویسی کی پارٹی الیکشن لڑتی ہے تو اس کا فائدہ بی جے پی کو اور نقصان ٹی ایم سی کو ہوگا ۔

      بہار میں اویسی کی پارٹی نے بی ایس پی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا تھا ۔ بی ایس پی کو ایک سیٹ اور ایم آئی ایم کو پانچ سیٹیں ملیں ۔ دلتوں کی سیاست کرنے والی بی ایس پی کے ساتھ اگر اویسی انتخابی میدان میں اترتے ہیں ، تو نقصان براہ راست کانگریس اور سماج وادی پارٹی کو ہوگا ۔ یوپی میں روایتی طور پر مسلم ۔ یادو ووٹ ایس پی کے کھاتے میں جاتے ہیں ، لیکن اگر بہار کی طرح یوپی کا مسلمان بھی اویسی کو اپنا ووٹ دیتا ہے تو ایس پی کیلئے یہ خطرے کی گھنٹی ہوگی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: