ہوم » نیوز » وطن نامہ

ناندیڑ: سیدہ اسماء ظہیر احمد نے ایم پی ایس سی امتحان میں حاصل کی نمایاں کامیابی

مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں ناندیڑ کی ہونہار طالبہ سیدہ اسماء سید ظہیر احمدنے غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست میں دسواں رینک حاصل کیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں اسسٹنٹ کمشنر آف اسٹیٹ ٹیکس (گروپ اے) کے عہدے کیلئے منتخب کی گئی ہیں۔

  • Share this:
ناندیڑ: سیدہ اسماء ظہیر احمد نے ایم پی ایس سی امتحان میں حاصل کی نمایاں کامیابی
سیدہ اسماء ظہیر احمد نے ایم پی ایس سی امتحان میں حاصل کی نمایاں کامیابی

ناندیڑ: مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں ناندیڑ کی ہونہار طالبہ سیدہ اسماء سید ظہیر احمدنے غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست میں دسواں رینک حاصل کیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں اسسٹنٹ کمشنر آف اسٹیٹ ٹیکس(گروپ اے) کے عہدے کیلئے منتخب کی گئی ہیں۔ سیدہ اسماء کی اس غیر معمولی کامیابی پر ان کے والدین اور رشتہ داروں میں خوشی کاماحول ہے۔ لوگ انہیں مبارکباد دینے ان کے گھر پہنچ رہے ہیں۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی ) یہ امتحان یونین پبلک سروس کمیشن کی طرز پر ہی لیا جاتا ہے۔ اس امتحان کو ریاستی سطح کا سب سے اہم امتحان مانا جاتاہے۔ اس امتحان میں بھی لاکھوںکی تعداد میں طلبہ حصہ لیتے ہیں اور اپنی قسمت آزماتے ہیں جبکہ کامیابی صرف چند سو طلبہ کے حصہ میں ہی آتی ہے۔


مجموعی طورپر کامیاب ہونے والے طلبہ میں مسلم طلبا کی کامیابی کا تناسب بھی بہت کم ہوتا ہے۔ ناندیڑ سے تعلق رکھنے والی ہونہار طالبہ سیدہ اسماء کے والد ظہیر احمد پولیس محکمہ میں ڈرائیورکی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے انپی بیٹی کو مقام تک پہنچانے کیلئے ہر طرح کی مدد کی گھر میں تعلیمی ماحول بنایا۔ تعلیمی وسائل فراہم کی جس کی وجہ سے آج سیدہ اسماء نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ بیٹی کی کامیابی پر والدین بہت خوش ہیں۔


واضح رہے کہ سابق میں دسویں کے امتحان میں بھی سیدہ اسماء کو صد فیصدکامیابی حاصل ہوئی تھی۔ تعلیمی قابلیت: B.A, M.A ،MPSC 10th RANK، سیدہ اسماء نے پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک اردو میڈیم سے خیر العلوم اردو ہائی اسکول، کھڑکپورہ ناندیڑ میں تعلیم حاصل کی۔ دسویں جماعت میں انہوں نے 100 فیصد نشانات سے کامیابی حاصل کی۔ گیارہویں جماعت سے گریجویشن تک یشونت کالج میں شعبہ آرٹس سے تعلیم حاصل کی۔ B.A گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پوسٹ گریجویشن M.A ECONOMICS سیکنڈ ایئرجاری ہے۔ سید اسماء کی بچپن سے ہی خواہش تھی کہ وہ مقابلاتی جاتی امتحانات میں حصہ لے اور انہیں ایڈمینسٹریشن میں ہی خدمات انجام دینے کے لئے دلچسپی تھی۔


سیدہ اسماء کی اس غیر معمولی کامیابی پر ان کے والدین اور رشتہ داروں میں خوشی کاماحول ہے۔ لوگ انہیں مبارکباد دینے ان کے گھر پہنچ رہے ہیں۔
سیدہ اسماء کی اس غیر معمولی کامیابی پر ان کے والدین اور رشتہ داروں میں خوشی کاماحول ہے۔ لوگ انہیں مبارکباد دینے ان کے گھر پہنچ رہے ہیں۔


ایم پی ایس سی امتحانات میں کامیاب ہوتے ہوئے دسواں رینک حاصل کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر آف اسٹیٹ ٹیکس کی پوسٹ کے لئے منتخب ہوئی ہے۔ عام طورپر یہ رجحان پایاجاتا ہے کہ مقابلہ جاتی امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے مہنگے مہنگے کوچنگ کلاسیس کا سہارا لینا پڑتا ہے، لیکن سیدہ اسماء نے بغیرکوچنگ کلاسیز کے اپنےگھر پر ہی یکسوئی کے ساتھ پڑھائی کی۔ ایم پی ایس سی جیسا مشکل ترین مقابلہ جاتی امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ آن لائن تعلیمی مواد کی مدد سے انہوں نے تعلیم حاصل کی۔

کامیابی کے لئے خود اعتمادی ضروری

سیدہ اسماء نے کہا کہ کوئی بھی کامیابی کو حاصل کرنے کیلئے خود اعتمادی (سیلف کانفیڈنس self confidence) ہونا بہت ضروری ہے۔ سیدہ اسماء کو 2004 میں سر سید ٹیلنٹ اسکالرشپ کے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ واضح رہےکہ اس کے علاوہ سیدہ اسماء UPSCمیں بھی pre-apear ہے۔زکوۃ فائونڈیشن کی جانب سے 100طلباء کاUPSC کی ٹریننگ  میں انتخاب کیا گیا تھا، جس میں سیدہ اسماء بھی شامل ہے اور دہلی میں سیدہ اسماء کی UPSC کی تیاری جاری ہے۔ سیدہ اسماء کے والد سید ظہیر احمد جو پیشہ سے پولس ہے اور وہ ناندیڑ میں گذشتہ 30سالوں سے محکمہ پولس میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سیدہ اسماء کی والدہ گریجویٹ ہے۔ سید ظہیر احمد کی چارلڑکیاں ہے، سیدہ اسماء ان کی بڑی لڑکی ہے، سیدہ نداء عائشہ دوسری لڑکی ہے، جو MBBS کر رہی ہے۔ سیدہ اسماء کے والد سید ظہیر احمد نے ان کی لڑکی کا MPSC میں کامیاب ہونے پر خوشی کا اظہارکیا ہے اور انہوں نے دوسرے والدین کو کہا کہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے دیں۔ سیدہ اسماء کی اس کامیابی پر لوگ ان کے گھر پہنچ کر ان کی اور ان کے والد کی گلپوشی کر کے مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔

 سیدہ اسماء نے کہا کہ کوئی بھی کامیابی کو حاصل کرنے کیلئے خود اعتمادی (سیلف کانفیڈنس) ہونا بہت ضروری ہے۔

سیدہ اسماء نے کہا کہ کوئی بھی کامیابی کو حاصل کرنے کیلئے خود اعتمادی (سیلف کانفیڈنس) ہونا بہت ضروری ہے۔


ٹیوشن کے بجائے سیلف اسٹڈی پر توجہ

کامیابی کے اس مقام پرپہنچنے پر جب ان سے بات کی گئی تو انہوں نے اپنے تاثر ات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نےمجھے غیرمتوقع کامیابی سے نوازا ہے۔ اس کے لئے میں سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نےمجھے آج یہ مقام عطا کیا۔ اس کے بعد میری اس کامیابی میں میرے والدین کا بہت اہم رول رہا ہے۔ انہوں نے میری قدم قدم پرسرپرستی کی، رہنمائی کی اور میرا حوصلہ بڑھایا۔ میرے والد بھی ایک تعلیم یافتہ شخصیت ہے جس کی وجہ سے ان کی رہنمائی نے مجھے بہت مدد کی۔ انٹرنیٹ کی مدد سے بھی میں آن لائن پڑھائی سے بھی بہت سی مدد ملی۔ پرائمری اور ہائی اسکول کی تعلیم اردو میڈیم سے ہی رہی ہے۔ مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ اردو میڈیم کی طالب علم ہونے کی وجہ سے مجھے آگے بڑھنے میں کوئی مشکل پیش آئی ہو۔ میں نے ٹیوشن کلاسیس کے بجائے سیلف اسٹڈی پر زیادہ توجہ دی۔ سیدہ اسماء کے والد سید ظہیر احمد نے کہا کہ میری بیٹی نے آج جو کامیابی حاصل کی ہے، اس کے لئے مجھے آج فخر محسوس ہو رہا ہے کہ میری بیٹی نے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر مشکل ترین سمجھا جانے والا امتحان پاس کیا ہے۔ اس مقام پر پہنچنے کےلئے ہمیں کافی جدو جہد کرنا پڑی اور کئی مشکلات پیش آئی۔ ہر قدم پر میں نے اپنی بیٹیوں کا حوصلہ بڑھایا انہیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی اورمیری بیٹی نے بھی دل لگاکر محنت کی اور آج ایک اونچے مقام پر پہنچی ہے۔ سیدہ اسماء کا اگلا ہدف یو پی ایس سی کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنا ہے، جس کی بھی تیاری جاری ہے۔
First published: Jun 21, 2020 09:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading