உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Border Dispute: پچاس سال پرانا آسام ۔ میگھالیہ سرحدی تنازع حل، وزیر داخلہ امت شاہ نے نبھایا اہم کردار

    Border Dispute: پچاس سال پرانا آسام ۔ میگھالیہ سرحدی تنازع حل، وزیر داخلہ امت شاہ نے نبھایا اہم کردار

    Border Dispute: پچاس سال پرانا آسام ۔ میگھالیہ سرحدی تنازع حل، وزیر داخلہ امت شاہ نے نبھایا اہم کردار

    Assam Meghalaya Border Dispute: آسام اور میگھالیہ کے درمیان چل رہا 50 سال پرانا تنازع اب حل ہوگیا ہے ۔ آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسو سرما اور میگھالیہ کے وزیر اعلی کونراڈ سنگما نے منگل کو وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں بین ریاستی سرحد معاملہ کے حل کیلئے سمجھوتہ پر دستخط کئے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : آسام اور میگھالیہ کے درمیان چل رہا 50 سال پرانا تنازع اب حل ہوگیا ہے ۔ آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسو سرما اور میگھالیہ کے وزیر اعلی کونراڈ سنگما نے منگل کو وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں بین ریاستی سرحد معاملہ کے حل کیلئے سمجھوتہ پر دستخط کئے ۔ اس موقع پر میگھالیہ کے وزیر اعلی کونراڈ سنگما نے کہا کہ ہم اس کو آگے لے جاکر جن باقی جگہوں پر تنازع ہے ، انہیں حل کرنے کی کوشش کریں گے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: سرکاری ملازمین کیلئے بڑا اپ ڈیٹ! DA میں ہوا اضافہ، اتنی بڑھ جائے گی تنخواہ


      جانکاری کے مطابق 31 جنوری کو دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلی نے وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک مفاہمت نامہ غور و خوض کیلئے سونپا تھا ۔ وزارت داخلہ نے اختلافات والے 12 حلقوں میں سے چھ پر تنازع حل کرنے کیلئے جنوری میں آسام اور میگھالیہ کے درمیان سرحدی سجھوتہ کو حتمی شکل دینے کیلئے 29 مارچ کی تاریخ طے کی تھی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : اعظم خان کو بڑا جھٹکا، آج نہیں لے پائیں گے حلف، عدالت نے اسمبلی میں جانے کی نہیں دی اجازت


      میگھالیہ اور آسام کے وزرائے اعلی نے پہلے مرحلہ میں چھ مقامات تاراباڑی ، گجانگ، حاکم ، بوکلاپاڑا، خان پاڑا ۔ پلنگ کاٹا اور رتچیرا میں سرحدی تنازع کو حل کرنے کیلئے 29 جنوری کو گوہاٹی میں مفاہمت نامہ پر دستخط کئے تھے ۔ اس کے بعد اس کو وزرات داخلہ کو بھیجا گیا تھا ۔

      غور طلب ہے کہ میگھالیہ 1972 میں آسام سے الگ ہوکر ایک ریاست بنا تھا اور اس نے آسام تشکیل نو قانون 1971 کو چیلنج کیا تھا ، جس سے 884.9  کلو میٹر طویل مشترکہ سرحد کے مختلف حصوں میں 12 علاقوں کو لے کر تنازع پیدا ہوگیا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: