ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Assembly Elections: امت شاہ نے کہا- بنگال میں پہلے مرحلے کی 30 میں سے 26 اور آسام میں 47 میں سے 37 سیٹیں جیتے گی بی جے پی

Assembly Elections 2021: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) نے دہلی واقع سرکاری رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کی۔ اس دوران انہوں نے اسمبلی انتخابات 2021 کے آغاز کو لے کر بات کی۔ مغربی بنگال اور آسام میں پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ ہوچکی ہے۔

  • Share this:
Assembly Elections: امت شاہ نے کہا- بنگال میں پہلے مرحلے کی 30 میں سے 26 اور آسام میں 47 میں سے 37 سیٹیں جیتے گی بی جے پی
امت شاہ نے کہا- بنگال میں پہلے مرحلے کی 30 میں سے 26 اور آسام میں 47 میں سے 37 سیٹیں جیتے گی بی جے پی

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوارکو پریس کانفرنس کی۔ اس دوران انہوں نے ہفتہ کو آسام اور مغربی بنگال (West Bengal) میں ہوئے پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے متعلق خوشی ظاہر کی۔ انہوں نے دونوں ریاستوں میں جیت کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی (BJP) بنگال میں پہلے مرحلے کی 30 میں سے 26 اور آسام کی 47 میں سے 37 سیٹیوں پر جیت رہی ہے۔ امت شاہ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی (Mamata Banerjee) پر بھی تنقید کی ہے۔ اسمبلی انتخابات 2021 کا آغاز ہوچکا ہے۔


دارالحکومت دہلی واقع سرکاری رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں امت شاہ نے مغربی بنگال اور آسام دونوں ریاستوں میں بڑی جیت کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پہلے مرحلے میں مغربی بنگال میں 30 میں سے 26 سیٹوں سے زیادہ پر بی جے پی جیت رہی ہے، زبردست اکثریت کے ساتھ سیٹیں جیت رہی ہے۔ ہماری سیٹیں بھی بڑھ رہی ہیں اور جیت کا فرق بھی بڑھ رہا ہے۔ آسام میں 47 میں سے 37 سیٹوں سے زیادہ پر بی جے پی جیتے گی، اس کے واضح اشارے مل رہے ہیں‘۔


294 سیٹوں والے بنگال میں پہلے مرحلے کی کی ووٹنگ کے بعد بی جے پی کو بڑی جیت کی امید ہے۔ انہوں نے کہا ’میں مانتا ہوں کہ مغربی بنگال میں پہلے مرحلے میں 26 سیٹوں سے جو شروعات ہوئی ہے، ہمارے ہدف 200 پار تک پہنچانے میں بڑی آسانی رہے گی۔ بی جے پی 200 سے زیادہ سیٹوں کے ساتھ مغربی بنگال میں حکومت بنائے گی، اس کا مجھے اور سبھی کارکنان کو مکمل اعتماد ہے‘۔


وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر تنقید

پریس کانفرنس میں امت شاہ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی کے دور اقتدار میں بنگال میں مزید گراوٹ آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بنگال میں جس طرح مایوسی اور بوکھلاہٹ کا ماحول تھا۔ 27 سال کے کمیونسٹ اقتدار کے بعد بنگال کے لوگوں کو امید تھی کہ دیدی ایک نئی شروع لے کر آئے گی۔ مگر پارٹی کا نشان اور نام بدل گیا، لیکن بنگال وہیں کا وہیں رہا بلکہ مزید گراوٹ آگئی‘۔

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 28, 2021 04:08 PM IST