ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آسام شہریت معاملہ: الیکشن سے پہلے متنازعہ سرکلر کو لےکر اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کو سپریم کورٹ کا نوٹس

آسام کے نئے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر ہتیش دیو شرما کے ذریعہ این آرسی کولے کر جاری کئے گئے ایک متنازعہ نوٹیفیکیشن کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے داخل کی گئی پٹیشن پر سپریم کورٹ کی چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ نے نوٹس جاری کرکے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر سے تحریری جواب طلب کیا ہے۔

  • Share this:
آسام شہریت معاملہ: الیکشن سے پہلے متنازعہ سرکلر کو لےکر اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کو سپریم کورٹ کا نوٹس
آسام شہریت معاملہ: الیکشن سے پہلے متنازعہ سرکلر کو لےکر اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کو سپریم کورٹ کا نوٹس

نئی دہلی: آسام کے نئے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر ہتیش دیو شرما کے ذریعہ این آرسی کولے کر جاری کئے گئے ایک متنازعہ نوٹیفیکیشن کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے داخل کی گئی پٹیشن پر سپریم کورٹ کی چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ نے نوٹس جاری کرکے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر سے تحریری جواب طلب کیا ہے اور 4 ہفتے کے اندران سے یہ بتانے کو کہا گیا ہے کہ انہوں نے اجازت لئے بغیر اس طرح کا سرکلرکیوں جاری کیا؟ ضابطہ کے مطابق سرکلرجاری کرنے سے پہلے آپ کو این آرسی مانیٹرنگ پینل سے اجازت لینی چاہئے تھی۔


واضح ہوکہ یہ نوٹیفیکشن این آرسی سے ان لوگوں کو نکال باہر کرنے کے لئے جاری کیا گیا ہے، جو مشتبہ ہیں یا ڈی ووٹر ہیں یا پھر فارن ٹریبونل نے جن کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، نوٹیفیکشن میں ریاست کے تمام اضلاع کے رجسٹرارآف سٹیزن رجسٹریشن سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ نہ صرف ایسے لوگوں بلکہ ان کے اہل خانہ (اجداد) کے نام بھی این آرسی سے ہٹادیں، پٹیشن وکیل آن ریکارڈ فضیل ایوبی کے توسط سے داخل کی گئی تھی اورگزشتہ روز سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل جرح کیلئے جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے عدالت میں موجود تھے، پٹیشن میں عدالت سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ اس طرح کا نوٹیفکیشن جاری کرکے درحقیقت اسٹیٹ کوآرڈینیٹرنے عدالت کی طرف سے وقت وقت پردی گئی ہدایات اور فیصلوں کی صریحاًخلاف ورزی کی ہے،اس لئے اسٹیٹ کوآرڈینیٹرکے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہے۔


آسام کے نئے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر ہتیش دیو شرما کے ذریعہ این آرسی کولے کر جاری کئے گئے ایک متنازعہ نوٹیفیکیشن کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے داخل کی گئی پٹیشن پر سپریم کورٹ کی چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ نے نوٹس جاری کرکے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر سے تحریری جواب طلب کیا ہے۔
آسام کے نئے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر ہتیش دیو شرما کے ذریعہ این آرسی کولے کر جاری کئے گئے ایک متنازعہ نوٹیفیکیشن کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے داخل کی گئی پٹیشن پر سپریم کورٹ کی چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ نے نوٹس جاری کرکے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر سے تحریری جواب طلب کیا ہے۔


پٹیشن میں مزید کہا گیا تھا کہ این آرسی کا پورا عمل سپریم کورٹ کی نگرانی میں مکمل ہوا ہے۔ چنانچہ ایسا کرکے مسٹرہتیش دیوشرما سپریم کورٹ کی اب تک کی تمام حصولیابیوں پر پانی پھیر دینا چاہتے ہیں، جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء نے یہ دلیل بھی دی کہ 23 جولائی 2019 کو اپنے ایک اہم فیصلے میں عدالت این آرسی میں شامل ناموں کی ری ویریفیکیشن کی عرضی مسترد کرچکی ہے، اسی طرح 7 اگست 2019 کو عدالت نے اس وقت کے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر پرتیک ہزیلا اور رجسٹرارآف انڈیا کے ایک اخباری انٹرویو دینے پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ آئندہ عدالت کی اجازت کے بغیر پریس سے کوئی بات نہیں کریں گے، فاضل ججوں نے ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ آپ لوگ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہی این آرسی کا کام دیکھ رہے ہیں، اس لئے آپ لوگ جو کچھ کہیں گے اسے عدالت کی منشاء یا رائے سمجھاجائے گا چنانچہ ایسا کرکے آپ لوگ توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں، اس پر ان دونوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ آئندہ وہ ایسی غلطی نہیں کریں گے۔

جمعیۃ علماء ہندکے وکلاء نے ان دونوں فیصلوں کو بنیاد بنا کر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جب عدالت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ اب کوئی ری ویریفیکیشن نہیں ہوگا تو اسٹیٹ کوآرڈینیٹر نے کس کی اجازت سے ری ویریفیکیشن کا سرکلر جاری کیا؟ پچھلی سماعت پر جمعیۃعلماء ہند کے وکلاء نے سوال کیا کہ کیا اسٹیٹ کوآرڈینیٹر نے عدالت کو اعتماد میں لے کر ری ویریفیکیشن کروایا ہے؟ اگر نہیں تو کیا ایسا کرکے انہوں نے عدالت کے ضابطہ کی خلاف ورزی نہیں کی ہے؟ یہی نہیں 13 اگست 2019 کو اپنے ایک فیصلے میں عدالت نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ وہ بچہ جو 2004 سے قبل پیدا ہوا ہے، اگر اس کے والدین میں سے کسی ایک کا نام این آر سی میں شامل ہوگا تو اسے ہندوستانی سمجھا جائے گا۔

مذکورہ سرکلر اس فیصلے کے بھی سراسر خلاف ہے، کیونکہ اس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ مشتبہ ہیں، ڈی ووٹر ہیں یا پھر فارن ٹریبونل میں جن کے معاملہ التوا میں ہیں وہ سب غیر ملکی ہیں، اس لئے نہ صرف ان کا بلکہ ان کے اہل خانہ کا نام بھی این آرسی سے ہٹادیا جائے۔ وکلاء نے دلیل دی کہ اس بنیاد پر اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ بنتا ہے، اس وقت عدالت نے درخواستوں میں ترمیم کرنے کو کہا تھا تاکہ توہین عدالت کی درخواست کو ہٹایا جا سکے۔ آج کی سماعت میں بینچ نے ترمیم شدہ درخواست کو مرکزی معاملہ (این آرسی مانیٹرنگ بینچ) کی درخواستوں میں ضم کردیا اوراسٹیٹ کوآرڈینیٹر کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کردیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 31, 2021 10:50 PM IST