உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Assam : وزیر اعلی کا مسلمانوں کو مشورہ، کوئی بھی تین شادیاں نہ کرے، بیوی کو قانونی طریقہ سے دے طلاق

    Assam : وزیر اعلی کا مسلمانوں کو مشورہ، کوئی بھی تین شادیاں نہ کرے، بیوی کو قانونی طریقہ سے دے طلاق

    Assam : وزیر اعلی کا مسلمانوں کو مشورہ، کوئی بھی تین شادیاں نہ کرے، بیوی کو قانونی طریقہ سے دے طلاق

    Assam CM Himanta Sarma on Muslim: آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسو سرما نے مسلمانوں کو تین شادیاں نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلم مرد تین خواتین سے شادی نہیں کرسکتا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسو سرما نے مسلمانوں کو تین شادیاں نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلم مرد تین خواتین سے شادی نہیں کرسکتا ۔ وزیر اعلی ہیمنت بسو سرما نے یہ بات مسلم خواتین کیلئے جائیداد میں برابر حقوق کی وکالت کرتے ہوئے کہی ۔ یہ سبھی باتیں انہوں نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : وادی میں ٹارگیٹ کلنگ: کولگام میں دہشت گردوں نے بینک ملازم کا گولی مار کر کیا قتل


      وزیر اعلی سرما نے مسلم مردوں کے بیویوں کو طلاق دینے کے طریقہ پر بھی بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلم مرد اپنی بیوی کو غیر قانونی طریقہ سے طلاق نہ دے کر قانونی عمل سے طلاق دے ۔ انہوں نے کہا کہ آسام سرکار اس معاملہ پر بہت واضح ہے کہ کوئی بھی مسلم تین خواتین سے شادی نہیں کرسکتا ہے ۔


      مسلم کنبوں میں جائیداد کی تقسیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسلم کنبہ میں بھی جائیداد کا برابر حصہ بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کا 50 فیصد حصہ بیوی کو دینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں عام مسلمانوں اور ریاستی سرکار کے خیالات ایک جیسے ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے :  ’’انڈو پیسیفک مستقبل ہے، ماضی نہیں‘‘ وزیر خارجہ ایس جے شنکر


      شمال مشرق کے طلبہ کے ساتھ ہونے والے بھیدبھاو میں ہوئی کمی کیلئے وزیر اعلی سرما نے وزیر اعظم مودی کو کریڈٹ دیا اور کہا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں اس علاقہ میں وزیر اعظم مودی کی رسائی کی وجہ سے کافی تیزی سے چیزیں تبدیل ہوئی ہیں اور اس علاقہ میں کافی پیش رفت ہوئی ہے ۔ کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ طلبہ کے خلاف بھید بھاو کافی حد تک کم ہوگیا ہے ۔

      وزیر اعلی نے کہا کہ اگر آپ پچھلے دو تین سالوں کو دھیان سے دیکھیں گے تو آپ کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ شمال مشرق میں وزیر اعظم کی پہنچ کی وجہ سے اب طلبہ کے خلاف نسلی بھیدبھاو اچانک سے کافی حد تک کم ہوگیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: