ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات بی جے پی کی سیاسی خوراک : میم افضل

میم افضل نے کہا کہ بی جے پی 7 ریاستوں میں اپنی انہی حرکتوں کی وجہ سے ہار گئی اور اب بہار میں بھی ہارے گی اور بنگال میں بھی شکست سے دوچار ہوگی ۔

  • Share this:
اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات بی جے پی کی سیاسی خوراک : میم افضل
کانگریس کے ترجمان م۔افضل: فائل فوٹو۔

کانگریس کے ترجمان میم افضل نے مدرسوں اور سنسکرت اسکولوں کو بند کیے جانے کے بارے میں آسام بی جے پی کے رہنما ہیمنت بِسوا سرما کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیمنت بِسوا سرما کو شرم آنی چاہئے کہ وہ اس ملک میں مدرسوں اور سنسکرت اسکولوں کو بند کرنے کی بات کر رہے ہیں ۔ سنسکرت ہندوستانی زبانوں کی ماں ہے اور ماں پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی ، ماں کو کنٹرول میں رکھنے کی بات کی جارہی ہے ۔ تاہم مدارس پر پابندی عائد کرنے کی توقع ان سے کی جاسکتی ہے ، کیونکہ وہ اس طرح کے بیانات دیتے رہے ہیں ۔


میم افضل نے کہا کہ مدرسوں کو لے کر حکومت کا خیال ہے کہ مدرسے جدید تعلیم دینے میں حکومت کے لئے مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ حکومت مدرسوں کی تعلیم میں میں فنڈ کے ذریعے مدد نہیں دیتی ہے ، بلکہ اساتذہ دیتی ہے ۔  مدارس پہلے ہی حکومت کے ماتحت ہیں ۔ میم افضل نے کہا کہ مختار عباس نقوی کو ہیمنت بسوا سرما کے اس بیان کا جواب دینا چاہئے ۔  وہ مدرسوں کو جدید اور ماڈل بنانے کے دعوے کرتے رہے ہیں ، ان کے ذریعے مدرسوں کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہوگی۔ لیکن نقوی جی اس کو کس طرح ہضم کریں گے ۔ یہ میری سمجھ میں نہیں آتا ۔


میم افضل نے کہا کہ بی جے پی 7 ریاستوں میں اپنی انہی حرکتوں کی وجہ سے  ہار گئی  اور صرف اسی طرح کی سیاست کی وجہ سے ہار گئی ہے ۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی بہار میں بھی ہارے گی اور بنگال میں بھی شکست سے دوچار ہوگی ۔ میم افضل نے کہا کہ مستقبل میں اشتعال انگیز بیانات کا نتیجہ سمجھ میں آجائے گا ۔ محمد افضل نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ میرا خیال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے اقلیتوں کے خلاف سیاسی بیانات دے کر بہادری کرنا ہی سیاسی خوراک ہے ۔

First published: Feb 13, 2020 10:55 PM IST