ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Assam-Mizoram Border Dispute: آسام-میزورم سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے لئے ایکشن میں وزارت داخلہ، سی آر پی ایف کی 4 ٹیمیں تعینات

Assam-Mizoram Border Dispute: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے اس تشدد میں جان گنوانے والے 5 پولیس اہلکاروں کو سلچر جارکر خراج عقیدت پیش کیا اور زخمی پولیس افسران سے ملاقات بھی کی۔

  • Share this:
Assam-Mizoram Border Dispute: آسام-میزورم سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے لئے ایکشن میں وزارت داخلہ، سی آر پی ایف کی 4 ٹیمیں تعینات
آسام-میزورم سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے لئے ایکشن میں وزارت داخلہ، سی آر پی ایف کی 4 ٹیمیں تعینات

نئی دہلی: آسام اور میزورم کے درمیان سرحد سے متعلق ہوئے پُرتشدد تصادم پر وزارت داخلہ باریکی سے نظر بنائے ہوئے ہے۔ وزارت داخلہ نے حالات کو سلجھانے کو لے کر خصوصی ٹیم تشکیل کی ہے۔ ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حالات فی الحال کنٹرول میں ہیں۔ وہیں دونوں ریاستوں کے اعلیٰ افسران حالات کی سنجیدگی کے پیش نظر رابطے میں ہیں۔ خفیہ محکمہ کے کئی افسران نے بھی سرحد پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔ خبر ہے کہ سی آر پی ایف کی 4 ٹیموں کو حساس علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے، جبکہ 6 ٹیموں کو تیار رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے اس تشدد میں جان گنوانے والے 5 پولیس اہلکاروں کو سلچر جارکر خراج عقیدت پیش کیا اور زخمی پولیس افسران سے ملاقات بھی کی۔


واضح رہے کہ آسام کے کچھار ضلع میں پیر کے روز ہوئے تشدد کے بعد آسام پولیس کے کم از کم پانچ جوانوں کی موت ہوگئی ہے۔ ان حادثات میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے جان گنوانے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کی۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا، ’مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے بہت ہی افسوس ہو رہا ہے کہ آسام پولیس کے 6 بہادر جوانوں نے آسام میزورم سرحد پر ہمارے ریاست کی آئینی سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے جانوں کی قربانی دے دی ہے۔ متاثرہ اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے ٹوئٹ میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد 6 بتائی تھی۔ حالانکہ بعد میں پانچ پولیس اہلکاروں کی موت کی تصدیق کی گئی۔


دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے درمیان ’ٹوئٹر وار‘


میزورم کے وزیر اعلیٰ جورم تھنگا نے پیر کے روز ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، اس ویڈیو میں آسام - میزورم سرحد پر بھیڑ پولیس کے ساتھ جھڑپ کرتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ میزورم کے وزیر اعلیٰ نے لکھا تھا ’امت شاہ جی، برائے مہربانی اس معاملے کو دیکھیں۔ اسے فوراً روکے جانے کی ضرورت ہے‘۔ ایک دیگر ویڈیو پوسٹ کرکے انہوں نے لکھا، ’کچھار کے ذریعہ میزورم لوٹ رہے معصوم لوگوں کے ساتھ غنڈوں نے ہاتھاپائی کی۔ آپ اس پُرتشدد عمل کو درست کیسے ٹھہرائیں گے‘؟

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے ٹوئٹ کیا، ’عزت مآب جورم تھنگا جی، کولابس وزیر اعلیٰ ہمیں ہماری چوکیوں سے ہٹنے کے لئے کہہ رہے ہیں، نہیں تو تب تک ان کے لوگ نہ سنیں گے اور نہ ہی تشدد روکیں گے۔ ایسے حالات میں ہم کیسے حکومت چلا سکتے ہیں؟ امید ہے کہ آپ جلد ہی مداخلت کریں گے‘۔ اس پر میزورم کے وزیر اعلیٰ نے آسام پولیس پر میزورم میں دراندازی کرنے کا الزام لگایا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تشدد کے دو دن پہلے ہی شمال - مشرق کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ میگھالیہ میں میٹنگ کی تھی۔ فائل فوٹو
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تشدد کے دو دن پہلے ہی شمال - مشرق کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ میگھالیہ میں میٹنگ کی تھی۔ فائل فوٹو


مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تشدد کے دو دن پہلے ہی شمال - مشرق کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ میگھالیہ میں میٹنگ کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق، یہ میٹنگ بین ریاستی سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے مقصد سے ہی طلب کی گئی تھی۔

میزورم اور آسام کے درمیان کیا ہے تنازعہ

میزورم کے تین اضلاع آئیجول، کولاسب اور ممت جبکہ آسام کے کچھار، کریم گنج اور ہیلا کانڈی اضلاع کے ساتھ تقریباً 164.6 کلو میٹر کی سرحد شیئر کرتے ہیں۔ دونوں پڑوسی ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعہ پرانا ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے 1995 کے بعد سے کئی بار بات چیت ہوئی، لیکن ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ تنازعہ کی اہم وجہ یہ ہے کہ سرحد کو لے کر دونوں ریاست الگ الگ ضوابط مانتے ہیں۔ میزورم جہاں بنگال ایسٹ فرنٹیئر ایکٹ، 1973 کے تحت 1875 میں 509 مربع میل کا اطلاع شدہ ریزرویڈ فاریسٹ ایریا کے اندرونی حصے کو سرحد مانتا ہے۔ وہیں آسام 1933 میں طے آئینی نقشے کو مانتا ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 27, 2021 12:09 PM IST