ہوم » نیوز » وطن نامہ

آسام شہریت معاملہ : ثبوت کے دائرہ سے باہر نکالے گئے پانچوں دستاویز بحال ، مولانا ارشد مدنی نے کہا : فیصلہ سے مثاثرین کو ملے گی کافی مدد

سپریم کورٹ نے آج آسام شہریت اور این آرسی سے جڑے معاملوں پر سماعت کرتے ہوئے مثاثرین کو بڑی راحت دیتے ہوئے ثبوت کے دائرہ سے باہر نکالے گئے پانچوں دستاویزبحال کردیئے ۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آسام شہریت معاملہ : ثبوت کے دائرہ سے باہر نکالے گئے پانچوں دستاویز بحال ، مولانا ارشد مدنی نے کہا : فیصلہ سے مثاثرین کو ملے گی کافی مدد
مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے آج آسام شہریت اور این آرسی سے جڑے معاملوں پر سماعت کرتے ہوئے مثاثرین کو بڑی راحت دیتے ہوئے ثبوت کے دائرہ سے باہر نکالے گئے پانچوں دستاویزبحال کردیئے ، ساتھ ہی جمعیۃعلماء ہند کی وکلاء کی طرف سے عدالت میں پانچ اہم مطالبے پیش کئے گئے ، سپریم کورٹ میں چیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس ایف آر نریمن کی دورکنی مانیٹرنگ بینچ میں سماعت کا آغاز ہوا تو جمعیۃعلماء ہند اور آمسو کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل ، سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید ، سینئر ایڈوکیٹ اندراجے سنگھ اور وکیل آن ریکارڈ فضیل ایوبی پیروی کے لئے پیش ہوئے۔

کارروائی شروع ہوئی تو سب سے پہلے عدالت نے اسٹیٹ کوآڈینیٹر مسٹر پرتیک ہزیلاسے دریافت کیا کہ ان پانچ دستاویزات کے علاوہ کیا وہ کچھ اور کہنا چاہتے ہیں ، اس پرمسٹر ہزیلا نے کہا کہ ہم نے ان دستاویز ات سے متعلق جو رپورٹ پیش کی ہے اس پر اپنی بات رکھنا چاہیںگے، اس پر عدالت نے فریقین کو مخاطب کرتے ہوئے وہی سوال دہرایا کہ کیا وہ ان دستاویزات کے علاوہ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں ، اس پر جمعیۃعلماء ہند کے سینئر وکیل مسٹرکپل سبل نے کہا کہ آبجکشن فائل کرنے کا طریقہ شہریت کے قانون 1955کی دفعہ 17کی روسے صحیح نہیں ہے ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 31 اگست 2015کے بعد کے متعلقہ دستاویزات کو بھی پیش کرنے کی اجازت ملنی چاہئے اور جس طرح سے 14سال کے بچوں کو والدین کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے اسی طرح اس کے دائرہ میں 18برس تک کے بچوں کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ اس پر فاضل عدالت نے اسٹیٹ کوآڈینیٹر کو اس بابت غورکرنے کو کہا۔ آبجکشن کے تعلق سے مسٹرکپل سبل کی طرف سے پیش کی گئی دلیل پر عدالت نے کہا کہ اسٹیٹ کوآڈینیٹر کی رپورٹ کے مطابق اب تک تقریبا 26ہزار کلیم داخل ہوچکے ہیں مگر آبجکشن کی تعداد محض 54ہیں ۔ بعد ازاں دائرہ کارسے باہر نکالے گئے دستاویزات کو لیکر عدالت نے اسٹیٹ کوآڈینیٹر مسٹر پرتیک ہزیلا سے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ ان دستاویز کی آڑ میں غیر حقیقی شہری بھی این آرسی میں اپنا نام شامل کراسکتے ہیں ، اس طرح ان کا غلط استعمال ہوسکتا ہے لیکن آپ کی یہ بات سراسر ناقابل قبول ہے ۔

قابل غور بات تو یہ ہے کہ ان دستاویزات سے متعلق مسٹر پرتیک ہزیلاکی رپورٹ پر فاضل ججوں نے ناراضگی کا اظہاربھی کیا اور کہا کہ قانون کی یہ منشاء ہزگز نہیں ہے کہ کسی کوپریشان کیا جائے ، عدالت نے ان سے یہ بھی کہا کہ آپ کی یہ دلیل کہ ان دستاویز ات کے سہارے غیر حقیقی باشندے بھی این آرسی میں شامل ہوسکتے ہیں لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان دستاویزات کی عدم شمولیت سے کہیں ریاست کے حقیقی شہری این آرسی سے باہر نہ رہ جائیں ، چنانچہ عدالت نے ان دستاویزات کو بحال رکھنے کا فیصلہ دیا ، اس طرح اب شہریت کے لئے پہلے ہی کی طرح 15دستاویز پیش کرنے کی شہریوں کو اجازت ہوگی ، اس ضمن میں عدالت نے یہ بھی کہا کہ قانونی طورپر ہر درخواست کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے تاکہ کوئی غیر حقیقی شہری این آرسی میں شامل نہ ہوسکے ، اس کے ساتھ ہی عدالت نے کلیم اور آبجکشن کی تاریخ ایک ماہ آگے بڑھاکر 25؍دسمبر کردی ہے۔

عدالت نے آج ایک بڑی ریایت یہ دی کہ اگر کوئی کسی دوسری ریاست کا رہنے والا ہے اور آسام میں جاکر آبادہوگیا ہے تو وہ شہریت کے ثبوت میں اپنی آبائی ریاست کا کوئی ثبوت پیش کرسکتا ہے اور یہ قابل قبول ہوگا ، دوسرے نئے طریقہ کارمیں کہا گیا تھا کہ چونکہ این آرسی میں درخواست دینے کی تاریخ 31؍اگست ہے اس لئے شہریت کے ہر قسم کے دستاویز 31؍اگست 2015کے ہی منظورہوںگے ۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے عدالت کے فیصلے کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ آسام شہریت تنازعہ کے حل کے تعلق سے یہ فیصلہ ایک بڑی پیش رفت ہے ، اور ہم سمجھتے ہیں کہ آنے والے ونون میں جو لوگ این آرسی میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں انشاء اللہ وہ لوگ بھی اپنے ثبوت پیش کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے مثاثرین کو بہت مددملے گی اور جس طرح نکالے گئے دستاویزات کو بحال کیا گیا ہے اس سے لوگوں کو اب ثبوت پیش کرنے میں آسانی ہوگی ۔

یہ بھی پڑھیں : این آر سی ڈرافٹ میں متعدد سابق فوجی افسران کے نام غائب، پوچھا- ملک کی خدمت کا یہی پھل ملے گا؟

 
First published: Nov 01, 2018 07:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading