ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

آسام : این آرسی پر ریاستی حکومت کابڑافیصلہ، 20مارچ سے پوری ریاست میں کیاجائیگایہ کام

گوہاٹی : نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) سے خارج ہونے والے 19 لاکھ افراد کو 20 مارچ سے نا منظوری کی پرچی (Rejection Slip) جاری کی جاسکتی ہے۔ آسام کی سربانند سونووال حکومت نے پیر کے روز اس منصوبہ پر عمل کرنے کی بات کہی ہے۔ یہ کام این آر سی اتھا ریٹی کی جانب سے کیاجائیگا۔ کسی شخص کو این آر سی کی حتمی فہرست سے خارج کرنے کی وجوہات کا انکار نامنظوری پرچی(Rejection Slip) میں ذکر کیا جائے گا۔

  • Share this:
آسام : این آرسی پر ریاستی حکومت کابڑافیصلہ، 20مارچ سے پوری ریاست میں کیاجائیگایہ کام
نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) سے خارج ہونے والے 19 لاکھ افراد کو 20 مارچ سے نا منظوری کی پرچی(Rejection Slip) جاری کی جاسکتی ہے

گوہاٹی : آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) سے خارج ہونے والے 19 لاکھ افراد کو 20 مارچ سے نا منظوری کی پرچی (Rejection Slip) جاری کی جاسکتی ہے۔ آسام کی سربانند سونووال حکومت نے پیر کے روز اس منصوبہ پر عمل کرنے کی بات کہی ہے۔ یہ کام این آر سی اتھا ریٹی کی جانب سے کیاجائیگا۔ کسی شخص کو آسام این آر سی کی حتمی فہرست سے خارج کرنے کی وجوہات کا انکار نامنظوری پرچی(Rejection Slip) میں ذکر کیا جائے گا۔


کانگریس کے ایم ایل اے عبدالکلام راشد عالم نے اٹھائیں سوال


آسام اسمبلی میں کانگریس کے ایم ایل اے رقیب الدین احمد نے اسمبلی میں ریاستی حکومت سے ایک سوال پوچھاتھا۔ رقیب الدین احمد کے تحریری سوال کے جواب میں ، آسام میں اسمبلی امور کے وزیر چندر موہن پٹواری نے کہا کہ اس وقت این آرسی کے ریکارڈ س کے معائنہ کا کام جاری ہے۔ جو تقریبا 12 فیصد باقی ہے۔ چندر موہن پٹواری نے کہا ، "اس کام کی تکمیل کے بعد ، 20 مارچ 2020 سے نا منظوری کی پرچی(Rejection Slip) جاری کرنے کا منصوبہ بنایاگیاہے۔کانگریس کے رکن اسمبلی عبدالکلام راشد عالم کی جانب سے پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں ، وزیر نے کہا کہ این آر سی کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے مجموعی طور پر 1348.13 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔این آر سی کا آغاز سپریم کورٹ کی نگرانی میں 2013 میں آسام میں ہوا تھا۔


آسام میں این آر سی کی حتمی فہرست گذشتہ سال 31 اگست کو شائع ہوئی تھی۔جس میں 19،06،657 افراد کو شامل نہیں کیاگیاہے۔ کل 3،30،27،661 درخواست دہندگان میں سے 3،11،21،004 افراد کو ہی این آر سی میں شامل تھے ۔آسام حکومت کے مطابق نامنظوری پرچی جاری کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ آسام میں حتمی این آر سی کی اشاعت سے پہلے مرکز نے فارن ٹریبونل میں اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ کو 60 دن سے بڑھا کر 120 دن کردیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دیگر ضروری ترامیم بھی کی گئیں۔ تاہم ، اس عمل میں بہت تاخیر ہوئی۔

نامنظوری کی پرچی ملنے کے آپ کیا کریں ؟

کسی درخواست گذار کے ہندوستانی شہری ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ فارن ٹریبونل کرے گا۔ ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف درخواست گذارکے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جانے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شہری کو غیر ملکی قرار دیاجاتاہے تو آگے کیا ہوگا؟ لیکن قانون کے مطابق ، حراست میں لینے کے بعد انہیں ملک بدر کرنے کا بھی انتظام ہے۔
First published: Mar 03, 2020 08:39 AM IST