உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Assembly Election Results 2022: رحجانات میں چار ریاستوں میں اقتدار میں لوٹ رہی بی جے پی، پنجاب میں آپ کا بھانگڑا

    Youtube Video

    Assembly Election Results 2022: اترپردیش میں سمیت پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے فیصلہ کا وقت قریب آگیا ہے اور ووٹوں کی گنتی کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔ اب سے کچھ گھنٹے کے بعد ان سبھی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی شروع ہوجائے گی ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : اترپردیش میں سمیت پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات (Assembly Election Results 2022) میں ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ ابتدائی رجحانات بے آنے لگے ہیں ۔ پہلے پہلے پوسٹل بیلٹ کی کاونٹنگ ہورہی ہے اور اس کے بعد ای وی ایم کھولے جائیں گے ۔ ووٹوں کی گنتی کیلئے سبھی ریاستوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔ جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں ، ان میں اترپردیش (Uttar Pradesh)، اترا کھنڈ (Uttarakhand)، پنجاب (Punjab)، منی پور (Manipur)اور گوا  (Goa) شامل ہیں ۔

      وہیں اگر ووٹوں کی گنتی سے پہلے آئے ایگزٹ پول پر نظر ڈالیں تو پانچ میں سے چار ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت بننے کی پیشین گوئی کی گئی ہے ۔ جبکہ ایک ریاست میں عام آدمی پارٹی کا جلوہ دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ ایگزٹ پولس کے مطابق اترپردیش ، اتراکھنڈ ، منی پور اور گوا میں بی جے پی اقتدار کی کمان سنبھال سکتی ہے تو پنجاب میں عام آدمی پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے ۔ بتادیں کہ ایگزٹ پولس ووٹنگ کے دوران ہوئے سروے پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کے نتائج کو حتمی نہیں مانا جاسکتا ہے ۔ کافی مواقع پر ایسا ہوا ہے جس میں انتخابی نتائج ، ایگزٹ پولس کے بالکل برعکس آئے ہیں ۔

      یہاں دیکھئے ہر اپ ڈیٹ

      تازہ رجحانات میں اترپردیش اور اتراکھنڈ میں بی جے پی واضح اکثریت تک پہنچ گئی ہے جبکہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کانگریس سے کافی آگے ہے ۔ اس نے سبھی پارٹیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔

      ابتدائی رجحانات میں اب اتراکھنڈ میں جہاں کانگریس آگے چل رہی تھی ، وہیں اب بی جے پی آگے ہوگئی ہے ۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان کانٹے کی ٹکر دیکھنے کو مل رہی ہے ۔

      ابتدائی رجحانات میں اترپردیش  میں بی جے پی آگے چل رہی ہے تو وہیں اتراکھنڈ میں کانگریس آگے چل رہی ہے ۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس میں  کانٹے کی ٹکر دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ کبھی کانگریس تو کبھی بی جے پی آگے چل رہی ہے ۔

       

      الیکشن کمیشن کی تیاری کیسی ہے؟

      حکام کے مطابق، پانچ ریاستوں کے لگ بھگ 1200 ہالس میں ووٹوں کی گنتی کے لیے 50,000 سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان صبح 8 بجے شروع ہونے والی مشق کے دوران انسداد کوویڈ 19کے رہنما یانہ اصولوں پر عمل کیا جائے گا۔ اتر پردیش میں 403 اسمبلی حلقوں میں سب سے زیادہ 750 سے زیادہ کاؤنٹنگ ہال بنائے گئے ہیں۔ اس کے بعد پنجاب میں 200 سے زائد کاؤنٹنگ ہالز میں رائے شماری کا عمل مکمل کاجائیگا۔

      اس عمل کی نگرانی کے لیے پانچ ریاستوں میں 650 سے زیادہ مبصرین کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہلکار نے لکھنؤ میں بتایا کہ یوپی کے تمام گنتی مراکز پر ویڈیو اور اسٹیشنری کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔

      پولیس نے کہا کہ 10 مارچ کے لیے، اتر پردیش کے تمام اضلاع اور کمشنریٹس کو CAPFs (سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز) کی کل 250 کمپنیاں فراہم کی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق، عام طور پر ایک CAPF کمپنی میں تقریباً 70-80 اہلکار ہوتے ہیں۔

      اگر بی جے پی 403 رکنی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو یہ گزشتہ تین دہائیوں میں پہلی بار ہو گا کہ بی جے پی لگاتار دوسری بار اترپردیش حکومت بنائے گی۔ بی جے پی کی یوپی یونٹ کے ترجمان راکیش ترپاٹھی نے کہا، "یوپی بی جے پی کے دفتر میں کوئی خاص تیاری نہیں ہے، لیکن پارٹی کارکنوں میں جوش و خروش ہے۔"

      منگل کو، سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو نے الزام لگایا تھا کہ وارانسی میں ایک ٹرک میں ای وی ایم کو "چھپاکر"لے جایا جا رہا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ مشینیں گنتی کے فرائض پر افسران کو تربیت دینے کے لیے تھیں۔

      اترپردیش

      الیکشن کمیشن نے وارانسی میں ای وی ایم سے متعلق نوڈل افسر سمیت تین اہلکاروں کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کو غیر مجاز طریقے سے منتقل کرنے کے الزامات لگائے جانے کے بعد اٹھایا گیاہے۔

      الیکشن کمیشن نے میرٹھ میں دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر اور وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں بہار کے چیف الیکٹورل آفیسر کو ووٹوں کی گنتی کی نگرانی کے لیے خصوصی افسر مقرر کیا ہے۔

      بی جے پی اور مودی حکومت کے لیے اتر پردیش کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ریاست لوک سبھا میں زیادہ سے زیادہ 80 ممبران اسمبلی بھیجتی ہے اور اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی کا 2024 کے عام انتخابات پر اثر ہونے کی امید ہے۔

      چونکہ کثیر الجہتی مقابلے کی وجہ سے پولنگ کے بعد کا منظر نامہ حیران کن ہو سکتا ہے، سیاسی جماعتوں نے اپنے سینئر لیڈروں کو ریاستوں میں بھیج دیا ہے تاکہ وقت رہتے دیگر جماعتوں کو اتحاد کے لیے راضی کر کے حکومت بنانے کے لیے آمادہ کیا جاسکیں۔

      اتراکھنڈ
      بی جے پی کے جنرل سکریٹری اور سینئر لیڈر کیلاش وجے ورگیہ نے سابق وزیر اعلیٰ رمیش پوکھریال نشنک، وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی۔وجے ورگیہ ماضی میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ ہریش راوت کے خلاف کانگریس ایم ایل اے کی بغاوت کے دوران ریاستی سیاست میں سرگرم رہے تھے، جس کی وجہ سے اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ ہوا تھا۔

      کانگریس کیمپ پارٹی کے مرکزی مبصر دیپیندر ہڈا، اتراکھنڈ کے پارٹی انچارج دیویندر یادو، انتخابی مہم کے سربراہ ہریش راؤت اور کانگریس کی ریاستی یونٹ کے صدر گنیش گوڈیال کے ساتھ بھی میٹنگ کر رہے ہیں اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

      کئی پوسٹ پول سروے میں بی جے پی کو کچھ میں اور کانگریس کو کچھ میں اکثریت حاصل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ ان میں سے کئی میں کہا گیا کہ ان دو بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے اور معلق اسمبلی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا منظر نامہ ہوگا جس میں حکومت سازی میں آزاد اور علاقائی جماعتوں جیسے AAP، SP، BSP اور اتراکھنڈ کرانتی دل کو حکومت سازی میں اہم رول ادا کرنا پڑسکتاہے۔

      اتراکھنڈ میں 70 رکنی اسمبلی ہے۔ بڑی جماعتیں ان باغیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے پارٹی امیدواروں کے خلاف آزاد حیثیت سے میدان میں اترا تھا۔ اس بار بی جے پی کے تیرہ باغی اور کانگریس کے چھ باغی میدان میں تھے۔

      پنجاب
      اروند کیجریوال کی AAP سات سال تک دہلی پر حکومت کرنے کے بعد پنجاب میں برسراقتدار آکر تاریخ رقم کرنے کی امید کر رہی ہے۔ اگرچہ مختلف ایگزٹ پولز نے کہا ہے کہ کانگریس مسلسل دوسری بار حکومت نہیں بنا سکے گی، لیکن کانگریس کی پنجاب یونٹ کے لیڈروں نے اصرار کیا ہے کہ ان کی پارٹی جیت جائے گی۔

      شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر بادل نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی پارٹی، جس نے بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ اتحاد میں الیکشن لڑا تھا، 80 سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے گی۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ اس کا بہت فائدہ ہوگا جبکہ سابق وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی پنجاب لوک کانگریس اور بی جے پی نے انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

      کانگریس کی پنجاب یونٹ کے سربراہ نوجوت سنگھ سدھو نے بدھ کو کہا کہ پنجاب اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی پہلی میٹنگ جمعرات کو ہی ہوگی۔ کانگریس جنرل سکریٹری اجے ماکن اور ترجمان پون کھیرا کو پنجاب بھیجا گیا ہے۔
      گوا
      کانگریس نے اپنی کرناٹک یونٹ کے سربراہ ڈی کے شیوکمار کو خصوصی مبصر کے طور پر گوا اور پارٹی کے جنرل سکریٹری مکل واسنک اور چھتیس گڑھ کے وزیر صحت ٹی ایس سنگھ دیو کے ساتھ ساتھ ونسنٹ پالا کو منی پور بھیجا ہے۔ پارٹی 2017 میں واحد سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے کے باوجود دونوں ریاستوں میں حکومت بنانے میں ناکام ہوگئی تھی

      کانگریس کی گوا یونٹ کے سربراہ گریش نے کہا کہ عام آدمی پارٹی (AAP) کے رہنما "پہلے سے ہی کانگریس رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔" انہوں نے دعوی کیا کہ مہاراشٹر وادی گومانتک پارٹی (MGP) بھی ان کی پارٹی کی حمایت کرے گی۔ کانگریس نے ووٹوں کی گنتی سے پہلے ساحلی ریاست کے تمام امیدواروں کو پنجی کے قریب بامبولیم گاؤں کے ایک لگژری ریزورٹ میں منتقل کر دیا ہے۔

      گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت منگل کو قومی راجدھانی میں بی جے پی قیادت کے ساتھ اپنی ریاست کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے تھے۔

      منی پور
      کے ایگزٹ پولز میں منی پور میں بی جے پی کی جیت کی پیش گوئی کے ساتھ، امپھال میں پارٹی کے ریاستی دفتر میں جوش و خروش کا ماحول ہے اور کارکنان احاطے کی صفائی اور باؤنڈری وال پر پارٹی کے نئے جھنڈے لگانے میں مصروف ہیں۔ پارٹی نے تمام 60 سیٹوں پر الیکشن لڑا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: