உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Assembly Elections 2022: اترپردیش، گوا اور اتراکھنڈ میں پُرامن پولنگ جاری، ووٹنگ کے لئے دیکھنے کو مل رہی ہے زبردست دلچسپی

    اترپردیش میں دوسرے مرحلے کے لئے ووٹنگ ہو رہی ہے۔

    اترپردیش میں دوسرے مرحلے کے لئے ووٹنگ ہو رہی ہے۔

    اترپردیش اسمبلی انتخابات (Assembly Elections 2022) میں دوسرے مرحلے (UP Second Phase Elections) میں ریاست کے نو اضلاع سہارنپور، بجنور، مرادآباد، سنبھل، رامپور، امروہہ، بدایوں، بریلی اور شاہجہاں پور کی 55 اسمبلی انتخابات سیٹوں کے لئے پیر کو ووٹنگ ہو رہی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: اسمبلی انتخابات (Assembly Elections 2022) میں دوسرے مرحلے کے لئے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ گوا میں گیارہ بجے تک 26.63 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ جبکہ اترپردیش میں 23.03 فیصد اور اتراکھنڈ میں 18.97 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے (UP Second Phase Elections) میں ریاست کے نو اضلاع سہارنپور، بجنور، مرادآباد، سنبھل، رامپور، امروہہ، بدایوں، بریلی اور شاہجہاں پور کی 55 اسمبلی انتخابات سیٹوں کے لئے پیر کو ووٹنگ ہو رہی ہے۔ گوا اسمبلی انتخابات (Goa Elections 2022 Updates) کی 40 سیٹوں کے لئے پیر کو ووٹنگ جاری ہے۔ وہیں اتراکھنڈ (Uttarakhand Elections Updates) میں 70 سیٹوں پر الیکشن ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت، اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی، سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت اور سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔



      پانچ ریاستوں کے انتخابات میں سب سے اہم الیکشن اترپردیش (UP Polls 2022) اور پنجاب (Punjab Elections 2022) کے مانے جا رہے ہیں۔ ان ریاستوں میں بی جے پی اور دیگر ٹیموں کی لاکھ داوں پر ہے۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے لئے ریاست کی 55 سیٹوں کے علاوہ گوا اور اتراکھنڈ کی سبھی اسمبلی سیٹوں پر پیر کو ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس میں گوا (Goa Polls 2022) کے وزیر اعلیٰ پرموت ساونت، اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی، سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت اور سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔

      اترپردیش اسمبلی انتخابات (UP Assembly Election 2022) کے دوسرے مرحلے کے لئے آج یعنی پیر کے روز صبح 7 بجے سے ووٹنگ (Second Phase Voting On Feb 14) جاری ہے۔ اس مرحلے میں 9 اضلاع کی 55 سیٹوں پر بی جے پی، کانگریس، بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) اتحاد کے درمیان ’بڑا مقابلہ‘ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس دوران امروہہ، بریلی، بجنور، بدایوں، مرادآباد، رامپور، سہارنپور، سنبھل اور شاہجہاں پور میں ووٹنگ ہونی ہے۔ واضح رہے کہ دوسرے مرحلے میں ہونے والے 55 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں 38 سیٹیں جیتی تھیں۔ جبکہ سماجوادی پارٹی کو 15 سیٹں اور کانگریس کو دو سیٹیں ملی تھیں۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اتحاد کرکے قسمت آزمائی کی تھی۔ سماجوادی پارٹی کی جیتی ہوئی 15 سیٹوں میں 10 سیٹوں پر مسلم امیدوار فاتح ہوئے تھے۔

      جانیں اس بار کس پارٹی نے اتارے کتنے مسلم امیدوار

      یوپی اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مسلمانوں کے ساتھ سینی، دلت اور جاٹ ووٹ ہار جیت طے کرنے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ وہیں اس مرحلے میں سماجوادی پارٹی نے 18، بی ایس پی نے 23، کانگریس نے 21 اور اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کی پارٹی مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے 15 مسلمانوں کو میدان میں اتارا ہے۔ جبکہ بی جے پی کی اتحادی جماعت اپنا دل (ایس) نے بھی رامپور کی سوار ٹانڈہ سیٹ کے نواب کاظم علی خان کے بیٹے حیدر علی خان کو امیدوار بنایا ہے، جوکہ 2014 کے بعد بھگوا خیمے کے پہلے مسلم امیدوار ہیں۔ یہی نہیں، اس بار بھی گزشتہ اسمبلی انتخابات کی طرح کئی سیٹوں پر مسلم امیدواروں کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ حالانکہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی کو اس مرحلے میں ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی، لیکن 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں اس نے اس حلقے کی چار سیٹیں جیتی تھیں اور اس سے واضح ہے کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ وہیں سماجوادی پارٹی کو گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں تین سیٹیں ملی تھیں۔ وہیں سماجوادی پارٹی کو گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں تین سیٹ ملی تھیں، سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی نے اتحاد میں قسمت آزمائی کی تھی۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: