دیوریا جیل کی بیرک نمبر-7 میں سجتا تھا عتیق احمد کا دربار

جس دن تاجرموہت جیسوال کواغوا کرکےدیوریا جیل لےجایا گیا، اس دن بھی بیرک میں 13 لوگ موجود تھے۔

May 14, 2019 09:50 AM IST | Updated on: May 14, 2019 10:05 AM IST
دیوریا جیل کی بیرک نمبر-7 میں سجتا تھا عتیق احمد کا دربار

مافیا عتیق احمد کی فائل فوٹو

سابق ممبرپارلیمنٹ اورمافیاعتیق احمد کےذریعہ دیوریا جیل میں لکھنوکےتاجرکی پٹائی معاملےمیں تشکیل جانچ ٹیم کی رپورٹ میں کئی انکشافات ہوئے ہیں۔ رپورٹ کےمطابق دیوریا جیل کی بیرک نمبر7 میں عتیق احمد کا دربارلگتا تھا۔ جیل مینوئل کی دھجیاں اڑاتے ہوئے روزانہ اس بیرک میں 9-8 لوگ موجود رہتے تھے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہےکہ جس دن تاجرموہت جیسوال کواغوا کرکےدیوریا جیل لےجایا گیا، اس دن بھی بیرک میں 13 لوگ موجود تھے۔ ان کےجانےکےبعد جیل انتظامیہ کےافسروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کےساتھ چھیڑچھاڑکرکےاسے مٹانےکی بھی کوشش کی۔

واضح رہےکہ لکھنوکے ریئل اسٹیٹ کاروباری موہت جیسوال کا 26 دسمبر2018 کواغوا کرکےدیوریا جیل لےجایا گیا، جہاں ان کی پٹائی کی گئی تھی۔ پٹائی سےان کے ہاتھ کی انگلی ٹوٹ گئی تھی۔ معاملہ میڈیا میں آنےکےبعد ڈی ایم امت کشورنے اے ڈی ایم انتظامیہ راکیش پٹیل اوراے ایس پی ششیہ پال سنگھ کی قیادت میں 6 ارکان کی جانچ ٹیم تشکیل کی تھی۔

Loading...

جانچ میں یہ بات سامنےآئی ہے کہ موہت جیسوال کواغوا کرکےلکھنوسے دیوریا جیل لایا گیا تھا۔ وہاں جیل کےاندرعتیق احمد اوراس کےگروہوں نے اس کی پٹائی کی تھی۔ اتنا ہی نہیں ملاقاتی رجسٹرمیں موہت کا نام عتیق احمد سے ملنے والوں کی فہرست میں بھی درج ہے۔جانچ ٹیم کوسپاہی انوپم نےبتایا کہ عتیق احمد سےملنےاکثرچارسے پانچ لوگ آتے تھے، اس کےلئے جیل سپرنٹنڈنٹ، دیگرافسراورملازمین کو قصورواربتایا گیا ہے۔

اس معاملے میں پہلے ہیڈ وارڈن منا پانڈے، وارڈن راکیش شرما اورایک دیگرکومعطل کیا گیا تھا۔ معاملہ سپریم کورٹ پہنچنےاورسی بی آئی جانچ کےحکم ہونے کے بعد جیلرمکیش کٹیہاراوراس کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ دلیپ پانڈے کو معطل کردیا گیا۔

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com