ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الہ آباد کے مسلم اکثریتی علاقےکو بھگوا رنگ میں رنگنےکی کوشش، یوگی کے وزیر کے فیصلے کی پڑوسیوں نے کی مخالفت

یوپی کے وزیر برائے اقلیتی امور نندگوپال گپتا نندی کے آبائی محلے کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کے معاملے نے اب تنازعہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ خود نندگوپال گپتا نندی کے پڑوسیوں نے بلا اجازت مکانوں کو بھگوا رنگ میں رنگنے اور ان پر مذہبی علامتیں بنانےکی مخالفت شروع کر دی ہے۔

  • Share this:
الہ آباد کے مسلم اکثریتی علاقےکو بھگوا رنگ میں رنگنےکی کوشش، یوگی کے وزیر کے فیصلے کی پڑوسیوں نے کی مخالفت
الہ آباد کے مسلم اکثریتی علاقے کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوشش

الہ آباد: یوپی کے وزیر برائے اقلیتی امور نندگوپال گپتا نندی کے آبائی محلے کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کے معاملے نے اب تنازعہ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ خود نندگوپال گپتا نندی کے پڑوسیوں نے بلا اجازت مکانوں کو بھگوا رنگ میں رنگنے اور ان پر مذہبی علامتیں بنانےکی مخالفت شروع کر دی ہے۔ پڑوسیوں کے الزام ہے کہ مکانوں کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کا کام نندی کے شہ پر ان کے قریبی رشتہ دار وں سے طرف سےکر ایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے اس معاملے میں  انتظامیہ کے سامنے اپنی شکایات  بھی درج کرائی ہیں  ۔یو پی کے کابینہ وزیر برائے اقلیتی امور نند گوپال گپتا عرف نندی کا آبائی مکان الہ آباد کے بہادر گنج محلے میں واقع ہے۔ شہر کا یہ علاقہ شروع سے ہی مسلم اکثریتی علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔


گذشتہ اسمبلی انتخابات میں نندگوپال نندی اسی علاقے سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ چند دنوں پہلے محلےکے چوراہے پر واقع نندگوپال  نندی کے آبائی  مکان کو بھگوا رنگ میں رنگنےکی شروعات ہوئی تھی، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس کے سارے مکان بھگوا رنگ کی زد میں آ گئے۔ بہادر گنج کا مرکزی علاقہ آج صرف ایک مخصوص رنگ میں رنگا نظر آرہا ہے۔ اس علاقےکے بیشتر مکانات کو زعفرانی رنگ میں رنگ دیا گیا ہے۔ مکانوں کو زعفرانی رنگ میں رنگنےکا کام زیادہ تر رات کی تاریکی میں کیا گیا۔ مکانوں کو بھگوا رنگ میں رنگنے پر اب خود نندگوپال گپتا نندی کے پڑسیوں نے سخت مخالفت شروع کر دی ہے۔


یوپی کے وزیر برائے اقلیتی امور نندگوپال گپتا نندی کے آبائی محلےکو زعفرانی رنگ میں رنگنے کے معاملے نے اب تنازعہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ خود نند گوپال گپتا نندی کے پڑوسیوں نے بلا اجازت مکانوں کو بھگوا رنگ میں رنگنے اور ان پر مذہبی علامتیں بنانےکی مخالفت شروع کر دی ہے۔
یوپی کے وزیر برائے اقلیتی امور نندگوپال گپتا نندی کے آبائی محلےکو زعفرانی رنگ میں رنگنے کے معاملے نے اب تنازعہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ خود نند گوپال گپتا نندی کے پڑوسیوں نے بلا اجازت مکانوں کو بھگوا رنگ میں رنگنے اور ان پر مذہبی علامتیں بنانےکی مخالفت شروع کر دی ہے۔


بہادر گنج کے باشندوں کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ راتوں رات ان کے مکانوں کی شناخت مٹا دی گئی ہے۔ نندگوپال نندی کے ایک  پڑوسی روی گپتا اس بات پر سخت ناراض ہیں کہ ان کے مکان کو بھگوا رنگ میں رنگنے سے پہلے ان کی اجازت نہیں لی گئی۔ شہرکے معروف سماجی کارکن ابھے اوستھی بھی مکانات کو ایک مخصوص رنگ میں رنگنےکے سخت مخالف ہیں۔ ابھے اوستھی کا کہنا ہےکہ بھگوا رنگ اور مذہبی علامتوں کی آڑ میں علاقے کے لوگوں پر ایک مخصوص نظریہ تھوپنےکی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ شہر کا بہادر گنج محلہ اپنی گنگا جمنی تہذیب کے لئے مشہور رہا ہے۔ اسی علاقے میں  کئی تاریخی درگاہیں اور مساجد بھی  موجود ہیں۔

بہادر گنج کے باشندوں کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ راتوں رات ان کے مکانوں کی شناخت مٹا دی گئی ہے۔ نندگوپال نندی کے ایک  پڑوسی روی گپتا اس بات پر سخت ناراض ہیں۔
بہادر گنج کے باشندوں کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ راتوں رات ان کے مکانوں کی شناخت مٹا دی گئی ہے۔ نندگوپال نندی کے ایک  پڑوسی روی گپتا اس بات پر سخت ناراض ہیں۔


دوسری جانب اس سلسلے میں علاقہ کے مسلمانوں کی طرف سے ابھی تک کسی رد عمل کا اظہار سامنے نہیں آیا ہے۔ مکانوں کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی مخالفت نندگوپال گپتا نندی کے ان پڑوسیوں کی طرف سے ہی سامنے آ رہی ہے، جو دہائیوں سے نندی خاندان کے ساتھ رہتے چلے آئے ہیں۔ ریاستی وزیر نندی کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اگر علاقے کے مکانوں کو بھگوا رنگ میں رنگنےکی مہم بندنہ کی گئی تو وہ اس کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 15, 2020 07:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading