ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال چاہتے ہیں، پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی پیروی کرے ہمارا سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں شہریت ترمیمی قانون کوچیلنج دینے والی عرضیوں پرسماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی عدالت عظمیٰ کو فالوکرنا چاہئے۔ وہ مرکزی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔

  • Share this:
اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال چاہتے ہیں، پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی پیروی کرے ہمارا سپریم کورٹ
سپریم کورٹ۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں شہریت ترمیمی قانون 2019 کوچیلنج دینے والی عرضیوں پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عجیب مطالبہ رکھ دیا۔ انہوں نےہندوستان کی عدالت عظمیٰ کوپاکستان کے سپریم کورٹ کو نظیربنانے(فالوکرنے) کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نےکہا کہ ہمارے یہاں بھی پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی طرح بیچ میں ایک پوڈیم لگایا جانا چاہئے۔


وینوگوپال نے کہا- بیچ میں لگایا جاناچاہئے پوڈیم


وینوگوپال نےکہا کہ سپریم کورٹ میں ایک ساتھ کئی وکیل بولنا شروع کردیتے ہیں، اگرکورٹ روم کے درمیان میں ایک پوڈیم لگا دیا جائےتوایک وقت میں ایک ہی وکیل کوبولنےکا پورا موقع ملےگا۔ ہمارے یہاں ایک ہی وقت میں 10 وکیل ایک ساتھ بولنا شروع کردیتے ہیں۔ اس سےکسی کوکچھ سمجھ نہیں آتا۔ پوڈیم لگانےکےبعد صرف ایک وکیل کے بولنے سےآپ کو بھی سمجھنےمیں آسانی ہوگی۔ دراصل، معاملے کی سماعت کے دوران جب سب سے پہلے سینئروکیل کپل سبل نےبولنا شروع کیا توکئی دیگروکیل بیچ میں کود پڑے اوربولنا شروع کر دیا۔


دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا

کے کے ینوگوپال اس پرخفا ہوگئے۔ انہوں نےکہا، 'یہ صرف ہمارے سپریم کورٹ میں ہی ہوسکتا ہےکہ کئی وکیل ایک ساتھ بولنےلگیں۔ یہ دنیا کےکسی دوسرے ملک میں نہیں ہوسکتا ہے۔ اس پرچیف جسٹس ایس اے بوبڈے نےکہا، 'ہمیں نہیں معلوم کہ ایسا کہیں اورہوتا ہے یا نہیں'۔ اس پروینوگوپال نےکہا کہ میں ایک معاملے میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں تھا، وہاں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ ان کے سپریم کورٹ میں ایک پوڈیم ہے۔ ایک وکیل پوڈیم پرآتا ہے اور اپنی بات رکھتا ہے'۔

یہی ہائی کورٹ میں نظم وضبط کی کرتے ہیں پابندی

وینوگوپال نےکہا کہ ہمارے یہاں ریاستوں کے ہائی کورٹ میں بھی یہاں سے بہترحالت ہے۔ یہی وکیل جب ہائی کورٹ جاتے ہیں توزیادہ نظم وضبط کے پابند نظرآتے ہیں۔ وہاں ان کا برتاؤالگ ہوتا ہے۔ یہاں آتے ہی یہ سبھی ایک ساتھ بولنےلگتے ہیں۔ اس پرچیف جسٹس بوبڈے نےکہا کہ وہ خود بھی وکیلوں سےایک ساتھ نہیں بولنےکوکہتے رہتے ہیں۔ یہ ان پرہےکہ وہ اس پرغورکریں۔ اب آپ نے بھی یہ بات سبھی کے سامنے رکھ دی ہے، انہیں اس بارے میں سوچنا چاہئے۔
First published: Dec 18, 2019 06:01 PM IST