جے شری رام نہیں بولنے پر مسلم نوجوان کی جم کر پٹائی ، معاملہ درج

مقامی پولیس نے بتایا کہ ہوٹل میں کام کرنے والا ملازم عمران اسماعیل پٹیل جمعہ کی صبح اپنے گھر لوٹ رہا تھا ، اسی دوران 10 لوگوں نے اس کی بائیک کو روک لیا ، اس کی چابی چھین لی اور اس کو جے شری رام بولنے کیلئے کہا ۔

Jul 21, 2019 10:02 AM IST | Updated on: Jul 21, 2019 10:02 AM IST
جے شری رام نہیں بولنے پر مسلم نوجوان کی جم کر پٹائی ، معاملہ درج

علامتی تصویر

مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں جے شری رام نہیں بولنے پر کچھ لوگوں نے ایک مسلم نوجوان کی مبینہ طور پر جم کر پٹائی کردی ۔ مقامی پولیس نے بتایا کہ ہوٹل میں کام کرنے والا ملازم عمران اسماعیل پٹیل جمعہ کی صبح اپنے گھر لوٹ رہا تھا ، اسی دوران 10 لوگوں نے اس کی بائیک کو روک لیا ، اس کی چابی چھین لی اور اس کو جے شری رام بولنے کیلئے کہا ۔

پولیس افسر کے مطابق گرفتار کیا گیا شخص گنیش ونود سونونے ( 21) ایک رکشہ پولر ہے اور بھرت نگر علاقہ کا رہنے والا ہے ۔ ہوٹل کے ملازم پٹیل نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ تقریبا دس لوگوں کے ایک گروپ نے اس کو بوگم پورا علاقہ میں ہڈکو کارنر کے نزدیک روکا ، جب وہ جمعہ کی علی الصبح موٹر سائیکل سے گھر لوٹ رہا تھا ۔

Loading...

انہوں نے دعوی کیا کہ ان لوگوں نے ان کی بائیک کی چابی چھین لی ، ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور انہیں جے شری رام کہنے کیلئے مجبور کیا ۔ پٹیل نے پولیس کو بتایا کہ گنیش نام کے شخص ( گرفتار شخص نہیں ) اور پاس میں رہنے والے لوگ ہنگامہ سن کر ان کی جان بچانے کیلئے وہاں پہنچ گئے ۔

آئی پی سی کی دفعہ 135 اے ( مذہب کے نام پر مختلف گروپس کے درمیان دشمنی کو بڑھانا ) اور 144 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ اس طرح کے واقعات حال ہی میں مہاراشٹر کے تھانہ سمیت ملک کے کئی مقامات پر پیش آچکے ہیں ۔

Loading...