ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

پاکستانی جیل سے18سالوں بعدرہائی،ہندوستان میں دوصرف ہفتوں کی زندگی،بے قصورمسلم خاتون کی داستان الم

کل9 فروری کی سہ پہر جب اس خاتوں کو لحد میں اتارا گیا تو وہاں سب کی انکھیں اشک بارتھیں،اور سب کے چہروں پر یہ سوال تھا کہ آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں جہاں ایک بےقصوراوربھولی بھالی خاتوں کو 18 سالوں تک قیدوبند صعبتیں برداشت کرنی پڑی ہے

  • UNI
  • Last Updated: Feb 10, 2021 01:28 PM IST
  • Share this:
پاکستانی جیل سے18سالوں بعدرہائی،ہندوستان میں دوصرف ہفتوں کی زندگی،بے قصورمسلم خاتون کی داستان الم
26 جنوری کو ہندوستان واپسی پر خوشی منانے والی خاتون حسینہ بیگم کا کل 9 فروری کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

ایک 65 سالہ ہندوستانی خاتون جس نے 18 سالوں تک بغیرکیس جرم کے پاکستان کی جیلوں میں زندگی گزاری اور بالاخررہائی پاکر واپس اپنے مادر وطن ہندوستان( اورنگ آباد-دکن) پہنچنے کے صرف دو ہفتوں بعد ہی اپنے مالک حقیقی سے جاملی۔ کل9 فروری کی سہ پہر جب اس خاتوں کو لحد میں اتارا گیا تو وہاں سب کی انکھیں اشک بارتھیں،اور سب کے چہروں پر یہ سوال تھا کہ آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں جہاں ایک بےقصوراوربھولی بھالی خاتوں کو 18 سالوں تک قیدوبند صعبتیں برداشت کرنی پڑی ہے،وہ بھی اس حالت میں جب اسکا اپنا کوئی نہ ہو اورجس نے کرب تنہائی میں اپنے مادر وطن واپس پہنچنے کی امید و آرزو میں 18 سال گزرا دیے ہوں۔


ابھی 14 دن پہلے ہی 26 جنوری 2021 کو جب آورنگ آباد کے ریلوے اسٹیشن پر اس کا استقبال کرتے ہوئے اورنگ آباد شہر کے سٹی چوک پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر نے گلدستہ دے کران کا استقبال کیا تو اس خاتون نے خوشی سے سرشار لہجےمیں شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا " میں اس بات کا لفظوں میں اظہار نہیں کر سکتی کہ مجھے اپنے مادر وطن ہندوستان پہنچنے کہ کتنی خوشی محسوس ہو رہی ہے"26 جنوری کو ہندوستان واپسی پر خوشی منانے والی خاتون حسینہ بیگم کا کل 9 فروری کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئی۔ انھوں نے بمشکل 14 دن ہی آزادی سے لطف اندوز ہونے کے بعد آخری سانس لی۔


واپسی پر انھوں نے نے اپنی تکلیفیں بیان کیں اور بتایا تھا کہ ان کا قصور نہ ہونے کی بنا پر بھی انھوں نے اتنے سالوں تک پاکستانی جیل میں بڑی مشکلوں کا سامنا کیا تھا "میں نے ان تمام سالوں میں زبردست مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ اب مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں جنت میں ہوں۔ میں اپنے ملک واپس آنے کے بعد سکون و اطمنان محسوس کرتی ہوں۔ مجھے غلط طور پر پاکستان میں جیل بھیج دیا گیا تھا"۔اورنگ آباد کے رشید پورہ علاقے کی رہائشی جن کی شادی اترپردیش کے سہارنپور کے ایک دلشاد احمد شیخ سے ہوئی تھی ، اور وہ ایک بے اولاد جوڑے تھے۔اور ان کے شوہر کی موت چند سال قبل اس وقت ہوئی جب ان کی اہلیہ پاکستان جیل میں زیربحث رہی۔


پڑوسی ملک میں اپنی 18 سالہ طویل رہائش کے بارے میں حسینہ بیگم نے بتایا تھا کہ ، ان کی یہ افسوسناک کہانی 2004 میں اس وقت شروع ہوئی جب وہ ٹرین کے ذریعے لاھور میں اپنے شوہر کے رشتہ داروں سے ملنے پاکستان گئی تھیں۔ سانحوں کا پہلا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب وہ وہاں سے اپنا پاسپورٹ کھو بیٹھیں اور سسرالیوں کی طرف سے کسی سے بھی نہیں مل سکی جو ان کی مدد کر سکے۔
پاسپورٹ کے بغیر ، حسینہ بیگم کو پاکستان پولیس نے فوری طور پر ایک ’جاسوس‘ ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور اسے ایک مقامی جیل میں مقید کر دیا گیا تھا جبکہ ان کے خلاف بوجھل قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔

کئی سالوں کے بعد جب اس نے مستقل طور پر اپنی بے گناہی کی درخواست کی تو آخر کار پاکستانی عدالت نے ہندوستانی حکام سے ان کے دعوؤں پر ایک تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ اسی مناسبت سے کچھ دن پہلے اورنگ آباد پولیس نے یہ رپورٹ پاکستان کو بھیجی جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ حسینہ بیگم سٹی چوک پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں راشد پورہ کی رہائشی تھی، اس کے شوہر کی تفصیلات اس کے گھر کا پتہ اور دیگر متعلقہ معلومات پاکستان کو بھیجی گئی۔ اس سے مطمئن پاکستان عدالت نے بالآخر اس کی رہائی اور ہندوستان واپسی کا حکم دیا اور وہ 26 جنوری کو اپنے آبائی شہر پہنچی۔

آزادی اور سکون سے بقیہ زندگی بسر کر نے کا مظلوم حسینہ بیگم کا یہ خواب اس وقت چکناچورہو گیا، جب آزادری اور سکون کے صرف چار پانچ دن گزارنے کے بعد انھیں یہ پتہ چلا کہ انھوں نے اورنگ آباد شہر میں جو چھوٹا سا پلاٹ قطعہ اراضی جسے انہوں نے جولائی 2000 میں خریدا تھا ، اس پر کچھ مقامی غنڈوں نے ناجائز قبضہ کر لیا ہے۔

گذشتہ ہفتے پراپرٹی پیپرز کی پرانی رجسٹری اور دیگر ریکارڈوں سے آراستہ ہوکر انہوں نے اورنگ آباد پولیس کے اعلیٰ افسر سے ملاقات کی تھی تاکہ وہ اپنے پلاٹ پر قبضہ حاصل کرسکے اور پولیس نے انکوائری کرنے اور ضروری کام کرنے کا یقین دلایا تھا۔ایک مقامی سماجی کارکن محسن احمد نے بتایا کہ چونکہ حسینہ بیگم کا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں تھا ، لہذا شہر کے متعدد افراد نے رضاکارانہ طور پر راشد پورہ میں محمدیہ مسجد میں نمازجنازہ ادا کرنے کے بعد سہ پہر قبرستان میں انھیں اپنے مادر وطن کی مٹی میں سپرد خاک کیا۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے "پہونچی وہیں پر خاک جہاں کا خمیر تھا"
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Feb 10, 2021 01:23 PM IST