உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم شخص نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ہندو جوڑے کوپہنچایا اسپتال- دیکھیں ویڈیو

    روبول داس فساد کے دوران پھنس گئے تھے اور اس کے  پاس کو ئی راستہ نہیں تھا۔ میڈیکل ہیلپ کے لئے ایک سو آٹھ نمبر کو کال کرنے کے بعد بھی مایوسی ہو چکی تھی بالآخر روبول نے مقبول کو فون کیا اور مقبول تمام  خطروں کو مول لیتے ہوئے روبول اور اس کی حاملہ بیوی کو اسپتال پہنچایا۔

    روبول داس فساد کے دوران پھنس گئے تھے اور اس کے پاس کو ئی راستہ نہیں تھا۔ میڈیکل ہیلپ کے لئے ایک سو آٹھ نمبر کو کال کرنے کے بعد بھی مایوسی ہو چکی تھی بالآخر روبول نے مقبول کو فون کیا اور مقبول تمام خطروں کو مول لیتے ہوئے روبول اور اس کی حاملہ بیوی کو اسپتال پہنچایا۔

    روبول داس فساد کے دوران پھنس گئے تھے اور اس کے پاس کو ئی راستہ نہیں تھا۔ میڈیکل ہیلپ کے لئے ایک سو آٹھ نمبر کو کال کرنے کے بعد بھی مایوسی ہو چکی تھی بالآخر روبول نے مقبول کو فون کیا اور مقبول تمام خطروں کو مول لیتے ہوئے روبول اور اس کی حاملہ بیوی کو اسپتال پہنچایا۔

    • Share this:
      آسام کے ضلع ہیلا کنڈی میں فرقہ ورانہ کشیدگی اور کرفیو کے بیچ ایک مسلم شخص نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایک ہندو جوڑے کو اسپتال پہنچایا جہاں نندتا داس نامی خاتون نے بچے کو جنم دیا اور اس کا نام شانتی رکھا گیا ۔ گویا نفرت کی تیز آندھیاں بھی محبت اور انسانیت کی شمع کو نہیں بجھا سکی۔ آسام کے ضلع ہیلا کنڈی کےاس چھوٹے سے گاؤں میں یہ تہنیتی تقریب فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے اعزاز میں منعقد کی گئی ہے ۔ہیلا کنڈی کی ڈی سی جلی کیرتی نے روبول داس اس کی بیوی نندتا داس اور مقبول لشکر کی شال پوشی کی ۔ کیوں کہ مقبول لشکرنے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کرفیو کے دوران روبول داس اور اس کی حاملہ بیوی کو اسپتال پہنچایا۔

      دراصل روبول داس فساد کے دوران پھنس گئے تھے اور اس کے پاس کو ئی راستہ نہیں تھا۔ میڈیکل ہیلپ کے لئے ایک سو آٹھ نمبر کو کال کرنے کے بعد بھی مایوسی ہو چکی تھی بالآخر روبول نے مقبول کو فون کیا اور مقبول تمام خطروں کو مول لیتے ہوئے روبول اور اس کی حاملہ بیوی کو اسپتال پہنچایا۔ جہاں اس نے بچے کو جنم دیا اور موقع کی مناسبت سے بچے کے نام شانتی رکھا گیا اور نفرت کے ماحول میں شانتی کی شمع روشن کرے گا۔ ہیلا کنڈی کی ڈی سی جلی کیرتی کہتی ہیں کہ فرقہ ورانہ فساد کے دوران ایک مسلم کی جانب سے ہندو۔بھائی کی مدد کرنا انسانیت کی بہترین مثال ہے اس لئے ہم نے انہیں تہنیت پیش کی ۔ جب ہر طرف فرقہ وارانہ فساد کی آگ جل رہی اور ایسے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کی مثال دیکھنے کو ملی ۔

       

       
      First published: