ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

Ayesha Suicide Case:واٹس ایپ چیٹ پر عائشہ اور عارف کے درمیان کیا بات ہوئی؟عارف نے چیٹ کیوں ڈیلیٹ کی؟

پیر کی رات عارف کی گرفتاری کے بعد احمد آباد پولیس نے اس کے موبائل کے بارے میں پوچھا تھا۔ پہلے اس نے کہا کہ اس نے موبائل پھینک دیا ہے۔ جب پولیس نے اس جگہ کے متعلق دریافت کیا اور کہا وہ جگہ بتائیں جہاں اس نے موبائل پھینک دیا تھا تو عارف نے بتایا کہ اس نے اپنا فون کسی دوست کے گھر پر چھپا رکھا ہے۔ پولیس نے موبائل ضبط میں لے لیا ہے۔

  • Share this:
Ayesha Suicide Case:واٹس ایپ چیٹ پر عائشہ اور عارف کے درمیان  کیا بات ہوئی؟عارف نے چیٹ کیوں ڈیلیٹ کی؟
عارف پر الزام ہے کہ اس نے جہیز کی مانگ کی تھی اور عائشہ کو خود کشی کے لئے اکسایا تھا۔

احمد آباد کی سابرمتی ندی میں کود کر خودکشی کرنے والی عائشہ بانو (Ayesha Suicide Case)کی زندگی کے مختلف کئی انکشافات ہورہے ہیں۔ گجرات پولیس ، عائشہ کے شوہر عارف خان(Husband Arif Khan) سے مسلسل پوچھ تاچھ کررہی ہے اور عارف خان اپنی اور عائشہ کے زندگی کے متعلق کئی اہم معلومات پولیس کے ساتھ شیئر کررہے ہیں ۔ پولیس عہدیداروں اس وقت بڑی کامیابی ملی جب پوچھ تاچھ کے دوران عارف نہ اعتراف کرلیاہے کہ اس نے عائشہ سے فون پر با ت چیت کے دوران عائشہ سے کہا تھا کہ خودکشی کرنے سے پہلے آخری ویڈیو بنائیں اور وہ اسے (عارف) کو بھیج دیں۔ یاد رہے کہ عارف پر الزام ہے کہ اس نے جہیز کی مانگ کی تھی اور عائشہ کو خود کشی کے لئے اکسایا تھا۔


اس معاملے کی تفتیش کرنے والے پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ عارف نے عائشہ کے ساتھ موجود تمام واٹس ایپ چیٹس کو اپنے موبائل فون سے ڈیلیٹ کردیا۔ تاہم عائشہ کے موبائل میں سارے چیٹ دستیاب تھے۔ جب افسران نے عائشہ کے موبائل میں موجود چیٹ کو عارف کو دکھایا تو عارف کو سمجھ گیا کہ وہ پھنس جانے والا ہے۔ اس لیے اس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ عائشہ کی خودکشی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس نے خود عائشہ سے کی گئی چیٹ ڈیلیٹ کو کردیاتھا۔


عارف نے دوست کے گھر چھپایا تھا اپنا موبائل فون


پیر کی رات عارف کی گرفتاری کے بعد احمد آباد پولیس نے اس کے موبائل کے بارے میں پوچھا تھا۔ پہلے اس نے کہا کہ اس نے موبائل پھینک دیا ہے۔ جب پولیس نے اس جگہ کے متعلق دریافت کیا اور کہا وہ جگہ بتائیں جہاں اس نے موبائل پھینک دیا تھا تو عارف نے بتایا کہ اس نے اپنا فون کسی دوست کے گھر پر چھپا رکھا ہے۔ پولیس نے موبائل قبضہ میں لے لیا ہے۔

عارف نے پولیس کو بتایا کہ عائشہ کے حاملہ ہونے پر وہ بہت خوش تھا۔عارف کا کہنا ہے کہ وہ عائشہ کے حاملہ ہونے پر خوش تھا اور بچے کی پرورش کرنا چاہتا تھا لیکن عائشہ ہراساں کرنے کی وجہہ سے بچے کی موت ہونے کے متعلق سوالات کیے جانے پر عارف نے کہا کہ بدقسمتی سے ، عائشہ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اسے اس کا بہت افسوس ہوا۔پولیس کے مطابق ،عارف نے کہا کہ وہ عائشہ اور ان کے بچے کو اپنے گھر لیے جانا جاہتا تھا ۔پولیس نے اس بات کی تصدیق کے لیے عائشہ اور عارف کے درمیان ہونے والی گفتگو کا کلپ سنا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ عائشہ ،عارف کے پاس واپس جانا چاہتی ہے لیکن عارف اسے مقدمہ درج ہونے کی وجہ سے اپنا نہیں رہا تھا۔

پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ عارف نے عائشہ کے ساتھ موجود تمام واٹس ایپ چیٹس کو اپنے موبائل فون سے ڈیلیٹ کردیا۔
پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ عارف نے عائشہ کے ساتھ موجود تمام واٹس ایپ چیٹس کو اپنے موبائل فون سے ڈیلیٹ کردیا۔


عائشہ نے خودکشی سے پہلے جو ویڈیو بنایا تھا وہ سنیچر کے روز وائر ل ہوگیاتھا۔ عائشہ نےیہ ویڈیو عارف کو بھیجاتھا۔ راجستھان کے جالور میں رہائش پذیر عارف ویڈیو وائرل ہوتے ہی گھر سے فرار ہوگیا۔ عارف کو پیر کی رات پولیس نے موبائل لوکیشن کی بنیاد پر راجستھا ن کے پالی سے گرفتار کیا تھا۔ جب پولیس نے عارف کو پکڑ لیا تو اس نے پولیس کے سامنے ایسی کوششیں کررہاتھا کہ کچھ ہوا ہی نہیں اور یہ بتانے کی کو شش کررہاتھاکہ اس کو کچھ معلوم ہی نہیں ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 06, 2021 10:39 AM IST