உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Babri Masjid Demolition Case: اڈوانی، جوشی اوما بھارتی سمیت 32 پر پھر سے مقدمہ چلے گا یا نہیں؟ HC کا 18 کو آسکتا ہے فیصلہ

    Ayodhya Babri Masjid Demolition Case: بابری مسجد شہادت کے ملزمین کو لور کورٹ سے بری کر دیا گیا تھا۔ لور کورٹ کے فیصلے کے خلاف بابری مسجد فریق کے مدعی رہے حاجی محبوب نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔

    Ayodhya Babri Masjid Demolition Case: بابری مسجد شہادت کے ملزمین کو لور کورٹ سے بری کر دیا گیا تھا۔ لور کورٹ کے فیصلے کے خلاف بابری مسجد فریق کے مدعی رہے حاجی محبوب نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔

    Ayodhya Babri Masjid Demolition Case: بابری مسجد شہادت کے ملزمین کو لور کورٹ سے بری کر دیا گیا تھا۔ لور کورٹ کے فیصلے کے خلاف بابری مسجد فریق کے مدعی رہے حاجی محبوب نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔

    • Share this:
      ایودھیا: بابری مسجد شہادت معاملے میں ملزمین کو بری کئے جانے کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ میں پھر سے عرضی داخل کی گئی ہے۔ تقریباً 6 ماہ پہلے داخل عرضی میں لور کورٹ سے بری ہوگئے لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 32 افراد پر مقدمہ چلے گا یا نہیں، اس پر 18 جولائی یعنی پیر کے روز ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی، جس میں ہائی کورٹ یہ دیکھے گا کہ دائر کی گئی عرضی سماعت کے اہل ہے یا نہیں۔

      واضح رہے کہ بابری مسجد شہادت کے ملزمین کو لور کورٹ سے بری کر دیا گیا تھا۔ لور کورت کے حکم کے خلاف بابری مسجد فریق کے مدعی رہے حاجی محبوب نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔

      بابری مسجد شہادت معاملے میں بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، ونے کٹیار، سادھوی رتنبھرا، مہنت نرتیہ گوپال داس، ڈاکٹر رام ولاس داس ویدانتی، چنپت رائے، مہنت دھرم داس، للو سنگھ، پرکاش شرما سمیت 32 افراد ملزم تھے۔ اب اس عرضی پر 18 جولائی کو ہائی کورٹ سماعت کرے گا۔ حاجی محبوب نے امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کی عرضی کو کورٹ سے منظوری مل جائے گی اور مقدمہ دوبارہ سے شروع ہوسکے گا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

       بی جے پی کا دعویٰ- گجرات فساد میں PM مودی کو پھنسانے کے پیچھے تھیں سونیا گاندھی

      28 سال بعد 2020 میں آئے فیصلے میں بری ہوگئے تھے ملزمین

      6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ منہدم کئے جانے کے معاملے میں 28 سال بعد فیصلہ آیا۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت (CBI Court) نے سبھی ملزمین کو بری کردیا اور کہا کہ مسجد شہادت (Babri Masjid) منصوبہ بند نہیں تھا۔ جج نے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ مسجد شہادت منصوبہ بند نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ لیڈران کی تقریر کا آڈیو واضح نہیں ہے۔ لیڈران نے بھیڑ کو روکنے کی کوشش بھی کی۔ جج نے کہا کہ ملزمین کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ اچانک ہوا۔

      48 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا

      واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سی بی آئی عدالت کو معاملے کا نمٹارہ 31 اگست 2020 تک کرنے کے احکامات دیئے تھے، لیکن گزشتہ 22 اگست کو یہ مدت ایک ماہ کے لئے مزید بڑھا کر 30 ستمبر کر دی گئی تھی۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اس معاملے کی روزانہ سماعت کی تھی۔ مرکزی ایجنسی سی بی آئی نے اس معاملے میں 351 گواہ اور تقریباً 600 دستاویزی ثبوت عدالت میں پیش کئے تھے۔ اس معاملے میں کل 48 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھام جن میں سے 17 کی معاملے کی سماعت کے دوران موت ہوچکی ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: