ایودھیا تنازعہ: نہرو کا حکم ٹالنے والا ڈی ایم بنا ہندوتو کا چہرہ، پہنچا لوک سبھا

ایودھیا کی متنازعہ جگہ پر رکھی گئیں رام للا کی مورتیوں کو ہٹوانے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دو بار حکم دیا لیکن ایودھیا کے ڈی ایم نے دونوں بار ان کے حکم کو ماننے سے انکار کر کے ایک بڑے ہندوتو وادی چہرے کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔

Nov 08, 2019 12:42 PM IST | Updated on: Nov 08, 2019 01:03 PM IST
ایودھیا تنازعہ: نہرو کا حکم ٹالنے والا ڈی ایم بنا ہندوتو کا چہرہ، پہنچا لوک سبھا

کیرالہ کے الیپی کے رہنے والے کے کے نائر 1930 بیچ کے آئی سی ایس آفیسر تھے۔

نئی دہلی۔ ایودھیا زمین تنازعہ کو لے کر اگلے تین۔ چار دن میں سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنا سکتا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی 17 نومبر کو سبکدوش ہو رہے ہیں۔ اس سے پہلےہی وہ اس مسئلہ پر فیصلہ سنائیں گے۔ تاریخ کے اس طویل ترین تنازعہ پر فیصلہ کا پورا ملک انتظار کر رہا ہے۔ اس بیچ ہم اپنے قارئین کو معاملے سے منسلک لوگوں سے روبرو کروا رہے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں شامل تھے کے کے نائر۔

ایودھیا کی متنازعہ جگہ پر رکھی گئیں رام للا کی مورتیوں کو ہٹوانے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دو بار حکم دیا لیکن ایودھیا کے ڈی ایم نے دونوں بار ان کے حکم کو ماننے سے انکار کر کے ایک بڑے ہندوتو وادی چہرے کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ ڈی ایم کے طور پر یہاں کے کے نائر تعینات تھے۔ ڈی ایم اور ان کی اہلیہ نے بعد میں الیکشن لڑا اور لوک سبھا پہنچے جبکہ ان کا ڈرائیور بھی اس امیج کا فائدہ اٹھا کر یوپی اسمبلی پہنچنے میں کامیاب رہا۔

Loading...

رام للا کی مورتیوں کو ہٹوانے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دو بار حکم دیا تھا۔ رام للا کی مورتیوں کو ہٹوانے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دو بار حکم دیا تھا۔

جب مورتیاں رکھی گئیں

سال 1949  میں 22 اور 23 دسمبر کی نصف شب میں مسجد کے اندر مبینہ طور پر چوری چھپے رام للا کی مورتیاں رکھ دی گئیں۔ ایودھیا میں شور مچ گیا کہ جنم بھومی میں بھگوان نمودار ہوئے ہیں۔ موقع پر تعینات کانسٹیبل کے حوالے سے لبراہن کمیشن کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اس واقعہ کی اطلاع کانسٹیبل ماتا پرساد نے تھانہ انچارج رام دوبے کو دی۔’’  50-60 لوگوں کا ایک گروپ احاطہ کا تالا توڑ کر، دیواروں اور سیڑھیوں سے چھلانگ لگا کر اندر گھس گیا اور شری رام کا مجسمہ نصب کر دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے پیلے اور زعفرانی رنگ میں شری رام لکھ دیا‘‘۔

جنوب کے باشندے نے شمال میں بنائی اپنی شناخت

ہیمنت شرما نے ’ یدھ میں ایودھیا‘ نامی اپنی کتاب میں مورتی سے جڑے ایک دلچسپ واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق،’’ کیرالہ کے الیپی کے رہنے والے کے کے نائر 1930  بیچ کے آئی سی ایس آفیسر تھے۔ فیض آباد کا ڈی ایم رہتے انہیں کی مدت کار میں بابری ڈھانچے میں مورتیاں رکھی گئیں یا یوں کہیں انہوں نے ہی رکھوائی تھیں۔ بابری معاملہ سے منسلک جدید ہندوستان کے وہ ایسے شخص ہیں جن کی مدت کار میں اس معاملہ میں سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ آیا اور ملک کے معاشرتی۔ سیاسی تانے بانے پر اس کا دوررس اثر پڑا‘‘۔

کتاب میں لکھا ہے کہ ’’ نائر یکم جون 1949 کو فیض آباد کے کلکٹر بنے۔ 23 دسمبر 1949 کو جب بھگوان رام کی مورتیاں مسجد میں لگا دی گئیں تو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ گووند بلبھ پنت سے فورا مورتیاں ہٹوانے کو کہا۔ اترپردیش حکومت نے مورتیوں کو ہٹوانے کا حکم دیا لیکن ضلع مجسٹریٹ کے کے نائر نے فسادات اور ہندوؤں کے جذبات کے بھڑکنے کے ڈر سے اس حکم کی تعمیل میں اپنی نااہلی جتائی‘‘۔

سال 1949 میں فیض آباد کے ڈی ایم رہے کے کے نائر کی کہانی سال 1949 میں فیض آباد کے ڈی ایم رہے کے کے نائر کی کہانی

میاں۔ بیوی دونوں بنے رکن پارلیمنٹ

شرما لکھتے ہیں ’’ جب نہرو نے دوبارہ مورتیاں ہٹانے کو کہا تو نائر نے حکومت کو لکھا کہ مورتیاں ہٹانے سے پہلے مجھے ہٹایا جائے۔ ملک کے فرقہ وارانہ ماحول کے مدنظر حکومت پیچھے ہٹ گئی۔ ڈی ایم نائر نے 1952 میں رضاکارانہ طور پر سبکدوشی لے لی۔ چوتھی لوک سبھا کے لئے وہ اترپردیش کی بہرائچ سیٹ سے جن سنگھ کے ٹکٹ پر لوک سبھا پہنچے۔ اس علاقے میں نائر ہندوتوا کا اتنا بڑا چہرہ بن گئے کہ ان کی بیوی شکنتلا نائر بھی قیصر گنج سے تین بار جن سنگھ کے ٹکٹ پر لوک سبھا پہنچیں۔ ان کا ڈرائیور بھی اترپردیش اسمبلی کا رکن بنا‘‘۔

متازعہ جگہ سے مورتیاں نہ ہٹائے جانے کے خلاف مسلمانوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ دونوں فریقوں نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ پھر حکومت نے اس جگہ کو متنازعہ قرار دے کر یہاں تالا لگوا دیا۔

اوم پرکاش کی رپورٹ

 

Loading...