تنازع سے نکلے ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کے لئے اب ایک نئی بحث شروع، جانئے پورا معاملہ

سپریم کورٹ نے گذشتہ 9 نومبر کو متنازع زمین رام مندر کی تعمیر کے لئے رام للا کو دے دی تھی اور بابری مسجد کے اہم فریق سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ ایکڑ زمین فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی۔

Nov 14, 2019 02:00 PM IST | Updated on: Nov 14, 2019 02:07 PM IST
تنازع سے نکلے ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کے لئے اب ایک نئی بحث شروع، جانئے پورا معاملہ

فائل فوٹو

لکھنئو۔ ایودھیا قضیہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل دہائیوں تک بابری مسجد۔ رام مندر تنازع میں الجھے رہے ایودھیا میں اب اس بات پر تکرار شروع ہوگئی ہے کہ آیا سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق مسجد کے لئے پانچ ایکڑ زمین لی جانی چاہئے کی نہیں اور اگر لی جائے تو کہاں۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ 9 نومبر کو متنازع زمین رام مندر کی تعمیر کے لئے رام للا کو دے دی تھی اور بابری مسجد کے اہم فریق سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ ایکڑ زمین فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی۔

مسجد کی تعمیر کے لئے زمین کہاں ہو اب اس پر تکرار شروع ہو گئی ہے۔ بابری مسجد کے مدعی اقبال انصاری اور ببلو خان کا کہنا ہے کہ متنازع زمین کے ارد گرد 1991 میں مرکزی حکومت کی جانب سے ایکوائر کی گئی 67 ایکڑ زمین ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ اسی 67 ایکڑ میں سے مسجد کی تعمیر کے لئے زمین دی جانی چاہئے۔ اقبال انصاری کے مطابق حکومت نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ زمین کہاں دی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی دیگر جگہ پر وہ زمین قبول نہیں کریں گے۔ وہیں جس زمین پر تنازع تھا وہ پرمہنس وارڈ میں ہے۔ پرمہنس وارڈ کے کاونسلر حاجی عاصم نے مطالبہ کیا کہ بابری مسجد کے لئے زمین 67 ایکڑ کے ہی احاطے میں دی جانی چاہئے۔

Loading...

ایودھیا کے ہی ایک دیگر کاونسلر ببلو خان کا کہنا ہے کہ 14 کلومیٹر کی سرحد کے باہر بھی زمین مسلمانوں کو قبول کرلینی چاہئے۔ ان کے مطابق حکومت جہاں چاہئے مسجد کے لئے زمین دے سکتی ہے۔ وہیں زمین لینے نہ لینے کے معاملے میں یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کی اہم میٹنگ 26 نومبر کو ہونی ہے۔ 26 نومبر کی میٹنگ کے بعد سنی وقف بورڈ اس ضمن میں اپنے موقف کو صاف کرسکتا ہے۔ ویسےبورڈ کے چیئرمین زفر فاروقی زمین لینے کے حق میں ہے۔ ان کے مطابق منفیات کا جواب مثبت انداز میں دیا جانا چاہئے۔زمین نہ لینے کی صورت میں منفی پیغام جائے گا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی پہلے ہی زمین نہ لینے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اویسی نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو مسجد کے لئے خیرات میں زمین نہیں لینی چاہئے بلکہ اپنے پیسوں سے زمین لے کر عالیشان مسجد کی تعمیر کی جانی چاہئے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد زمین لینے کے معاملے میں دو قسم کی آراء آ رہی ہیں۔ کچھ لوگ زمین لینے کے حق میں ہیں اور کچھ زمین نہ لینے کی طرفداری کررہے ہیں۔ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد علما ء کے ایک وفد نے اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کر کے مسجد کے لئے ایسی جگہ کا مطالبہ کیا تھا جہاں پر مسجد کےساتھ اسلامی یونیورسٹی کی بھی تعمیر کی جا سکے۔

Loading...