بابری مسجد - رام مندرملکیت تنازعہ معاملہ: باقیات پربنایا گیا تھا یا اسےمنہدم کرکےبنایا گیا تھا: ویدناتھن

رام للا وراجمان کے وکیل سی این ویدناتھن نے آٹھویں دن جرح آگے بڑھاتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے کہا کہ متنازعہ جگہ کی کھدائی میں ملے باقیات کی تفصیلی جانچ سے یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ بابری مسجد یا تو رام مندر کے باقیات پر بنائی گئی تھی یا اسے گراکر۔

Aug 20, 2019 05:45 PM IST | Updated on: Aug 20, 2019 07:05 PM IST
بابری مسجد - رام مندرملکیت تنازعہ معاملہ:  باقیات پربنایا گیا تھا یا اسےمنہدم کرکےبنایا گیا تھا: ویدناتھن

سپریم کورٹ: فائل فوٹو۔

اجودھیا میں رام مندر ۔ بابری مسجد ملکیت تنازعہ کی سماعت ایک دن کے وقفہ کے بعد آج آٹھویں دن دوبارہ شروع ہوئی جس میں رام للا وراجمان نےکہا کہ متنازعہ ڈھانچہ یا تومندر کے باقیات پرقائم کیا گیا تھا یا اسےگراکر۔ رام للا وراجمان کے وکیل سی این ویدناتھن نے آٹھویں دن جرح کوآگےبڑھاتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے کہا کہ متنازعہ جگہ کی کھدائی میں ملے باقیات کی تفصیلی جانچ سے یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ بابری مسجد یا تورام مندرکےباقیات پربنائی گئی تھی یا اسےگراکر۔

ویدناتھن نے دلیل دی کہ کھدائی سے موصول اشیا اوردستاویزوں سے یہ واضح ہوتا ہےکہ متنازعہ مقام پربھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اوراس مقام کی پاکیزگی برقرار رکھنی چاہئے۔ انہوں نےایک دستاویز کا حوالہ دیتےہوئےکہا کہ کھدائی کے دوران پتھرکی پٹیاں برآمد کی گئی تھیں، جس پرسنسکرت میں بارہویں صدی کے ریکارڈ موجود ہیں۔

Loading...

انہوں نےکہا کہ ان ریکارڈ میں راجہ گووند چندرکا ذکرہے، جنہوں نےساکیٹ ڈویژن پر حکومت کی تھی اوراجودھیا اس کی راجدھانی تھی۔ وہاں ایک بڑا ویشنومندربنایا گیا تھا۔

انہوں نےکہا کہ انڈین آرکیالوجیکل سروے (اے ایس آئی) محکمہ کی کھدائی میں برآمد اس پتھرکےسلیب پرلکھےگئے ریکارڈ کے ترجمہ کونہ تو چیلنج دیا گیا ہے نہ ہی ریکارڈ کی صداقت پرسوال کھڑے کئےگئےہیں۔

Loading...