سپریم کورٹ میں ایودھیا تنازع: ہم رام کے عقیدت مند،پوجا کرنا ہمارا حق:وشارد

ایودھیا کے رام جنم بھومی - بابری مسجد زمین تنازعہ پر سپریم کورٹ میں دسویں دن کی سماعت کے دوران جمعرات کو عرضی گزار گوپال سنگھ وشارد کی جانب سے دلیلیں پیش کی گئیں۔ 

Aug 22, 2019 04:14 PM IST | Updated on: Aug 22, 2019 04:14 PM IST
سپریم کورٹ میں ایودھیا تنازع:  ہم رام کے عقیدت مند،پوجا کرنا ہمارا حق:وشارد

ایودھیا تنازع پرآج سے ہرروزسپریم کورٹ کرے گا سماعت،

ایودھیا کے رام جنم بھومی - بابری مسجد زمین تنازعہ پر سپریم کورٹ میں دسویں دن کی سماعت کے دوران جمعرات کو عرضی گزار گوپال سنگھ وشارد کی جانب سے دلیلیں پیش کی گئیں۔ جنہوں نے کہا کہ انہیں پوجا کرنےکا حق ہے اور یہ حق ان سے چھینا نہیں جاسکتا۔وشارد کی جانب سے پیش سینئر وکیل رنجیت کمار نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی،جسٹس ایس اے بوبڑے،جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ،جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی آئینی بینچ کے سامنے دلیلیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ (کلائنٹ)پجاری ہیں اور انہیں متنازعہ جگہ پر پوجا کرنے کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

رنجیت کمار نے رام للا وراج مان کے وکیل سی ایس ویدھ ناتھ کی دلیلوں سے اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ زمین خود میں بھگوان کی جگہ ہے اور بھگوان رام کے عقیدت مند ہونے کے ناطے ان کے کلائنٹ کو وہاں پوجا کرنے کا حق ہے۔ یہ وہ جگہ ہے،جہاں رام کی پیدائش ہوئی تھی اور انہیں یہاں پوجا کرنے کا حق دیا جانا چاہئے۔

Loading...

انہوں نے معاملے کی نچلی عدالت میں سماعت کے دوران پیش کئے گئے دستاویزوں کو آئینی بینچ کے سامنے رکھا۔ان دستاویزوں میں 80سال کے عبدالغنی کی گواہی کا بھی انہوں نے ذکر کیا۔اس کے بعد خود جسٹس گوگوئی نے رنجیت کمار سے کئی طرح کے سوال کئے،جس کاجواب انہوں نے پرانے دستاویزوں کی بنیاد پردیا۔

Loading...