اجودھیا کیس : مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون کو دھمکی دینے والے تمل ناڈو کے پروفیسر نے مانگی معافی ، ہتک عزت کا کیس ختم

سپریم کورٹ نے اجودھیا کیس میں مسلم فریق کی وکالت کرنے والے سینئر وکیل راجیو دھون کو دھمکی دینے والے تمل ناڈو کے پروفیسر این شنموگم کے معافی مانگ لینے کے بعد ان کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ آج ختم کردیا۔

Sep 19, 2019 07:59 PM IST | Updated on: Sep 19, 2019 07:59 PM IST
اجودھیا کیس : مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون کو دھمکی دینے والے تمل ناڈو کے پروفیسر نے مانگی معافی ، ہتک عزت کا کیس ختم

سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے اجودھیا کیس میں مسلم فریق کی وکالت کرنے والے سینئر وکیل راجیو دھون کو دھمکی دینے والے تمل ناڈو کے پروفیسر این شنموگم کے معافی مانگ لینے کے بعد ان کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ آج ختم کردیا۔  چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت میں آج جب یہ معاملہ سماعت کے لئے آیا ، تو انہوں نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کررہے ہیں ؟ آپ 88 برس کے ہوگئے ہیں۔اس پر این شنموگم نے اپنے رویے کے لئے عدالت سے معافی مانگی ۔ ان کی طرف سے وکیل وی ویل مروگن موجو دتھے۔

راجیو دھون کی طرف سے عدالت میں پیش سینئروکیل کپل سبل نے کہا کہ میں کسی کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں چاہتا ۔ لیکن اس سلسلے میں سب کو پیغام جانا چاہئے۔معاملے کی سماعت کے بعد عدالت نے ہتک عزت کی کارروائی ختم کردی۔

Loading...

خیال رہے کہ شنموگم نے راجیو دھون کو خط لکھ کر ان پر مسلمانوں کی طرف سے پیروی کرنے اور اجودھیا پر ان کے حق کا دعوی کرکے اپنے اعتقاد کے ساتھ وشواش گھات کرنے کا الزام لگایا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوآپ (دھون کو) آپ کے موجودہ رویے کے لئے معاف نہیں کریں گے۔ بھگوان کے فیصلے کا انتظار کریں۔

Loading...