اجودھیا کیس : مسلم فریق نے پیش کیا ثبوت ، 1934 میں پی ڈبلیو ڈی نے مسجد کی مرمت کرائی تھی

سپریم کورٹ میں اجودھیا معاملہ کی سماعت میں جمعہ کو مسلم فریق نے اپنی دلیلیں پیش کیں ۔ مسلم فریق نے اپنے دلائل میں مسجد ہونے کا دعوی پیش کرتے ہوئے عدالت کے سامنے کچھ دستاویز پیش کئے ۔

Sep 13, 2019 10:37 PM IST | Updated on: Sep 13, 2019 10:37 PM IST
اجودھیا کیس : مسلم فریق نے پیش کیا ثبوت ، 1934 میں پی ڈبلیو ڈی نے مسجد کی مرمت کرائی تھی

سپریم کورٹ آف انڈیا ۔ فائل فوٹو

سپریم کورٹ میں اجودھیا معاملہ کی سماعت میں جمعہ کو مسلم فریق نے اپنی دلیلیں پیش کیں ۔ مسلم فریق نے اپنے دلائل میں مسجد ہونے کا دعوی پیش کرتے ہوئے عدالت کے سامنے کچھ دستاویز پیش کئے ۔ مسلم فریق کے وکیل ظفریاب جیلانی نے پیش کئے گئے دستاویز میں پی ڈبلیو ڈی کی اس رپورٹ کو بھی رکھا ، جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ 1934 کے فرقہ وارانہ فسادات میں مسجد کو نقصان پہنچا تھا ۔

مسلم فریق کے وکیل ظفریاب جیلانی نے عدالت میں یہ دعوی کیا کہ متنازع زمین پر بابری مسجد تھی ۔ اسی سلسلہ میں جیلانی نے عدالت کے سامنے یہ دستاویز پیش کئے تھے ۔ جیلانی نے پی ڈبلیو ڈی کی رپورٹ کا حوالہ دیا ، جس میں کہا گیا تھا کہ 1934 کے فسادات میں مسجد کے ایک حصے کو مبینہ طور پر نقصان پہنچایا گیا تھا ، جس کے بعد پی ڈبلیو ڈی نے اس کی مرمت کرائی تھی ۔

Loading...

مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون نے 22 ویں دن کی سماعت میں اترپردیش کے ایک وزیر کے بیان کا تذکرہ کیا تھا ۔ راجیو دھون نے عدالت میں کہا کہ کل میرے ساتھی کو سپریم کورٹ میں نازیبا الفاظ کہے گئے اور پریشان کیا گیا تھا ، کیونکہ میں مسلم فریق کی طرفداری کررہا ہوں ۔ یہ سب بہت خراب ماحول تیار کر رہا ہے ۔ کچھ دن پہلے ہی اترپردیش کے ایک وزیر نے کہا تھا کہ جگہ ہماری ہے ، مندر ہمارا ہے اور سپریم کورٹ بھی ہمارا ہے ۔ میں مزید کتنی توہین کی عرضی داخل کروں ۔

راجیو دھون کی شکایت پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی بھی فریق کو دباو میں آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سبھی فریق بے خوف ہوکر اپنی دلیلیں پیش کریں ۔ دھون نے عدالت میں اپنے اسٹاف کے ساتھ بدسلوکی اور فیس بک پر ملی دھمکی کا بھی تذکرہ کیا ۔ سپریم کورٹ نے راجیو دھون سے سیکورٹی فراہم کرانے کیلئے بھی پوچھا ، لیکن انہوں نے کسی بھی طرح کی سیکورٹی لینے سے انکار کردیا ۔

Loading...