اجودھیا تنازع : فیصلہ سے پہلے مرکزی حکومت نے ریاستوں کو جاری کی ایڈوائزری ، یوپی کیلئے بھیجے 4 ہزار جوان

اجودھیا میں رام مندر اور بابری مسجد معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر حکومت نے سبھی ریاستوں کو احتیاط برتنے اور امن و قانون پر سخت نظر رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

Nov 07, 2019 08:25 PM IST | Updated on: Nov 08, 2019 12:06 AM IST
 اجودھیا تنازع : فیصلہ سے پہلے مرکزی حکومت نے ریاستوں کو جاری کی ایڈوائزری ، یوپی کیلئے بھیجے 4 ہزار جوان

 اجودھیا تنازع : فیصلہ سے پہلے مرکزی حکومت نے ریاستوں کو جاری کی ایڈوائرزی

اجودھیا میں رام مندر اور بابری مسجد معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر حکومت نے سبھی ریاستوں کو احتیاط برتنے اور امن و قانون پر سخت نظر رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ اترپردیش میں احتیاط کے طورپر مرکزی پولیس فورس کے تقریباً چار ہزار جوانوں کو بھیجا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ اجودھیا فیصلے کے پیش نظر سبھی ریاستوں کو ایک عام مشورہ بھیجا گیا ہے ۔ مشورے میں سبھی ریاستوں کو امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے ضروری احتیاطی قدم اٹھانے کیلئے کہا گیا ہے ۔ ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے ناخوشگوار حالات پیدا نہ ہونے دیں اور سبھی سرگرمیوں پر سخت نظر بنائے رکھیں۔ وزیراعظم مودی بھی مرکزی کونسل کی میٹنگ میں سبھی وزرا کو اس فیصلے کے بارے میں بے وجہ کے بیانات سے بچنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔

Loading...

فیصلے سے پہلے لاکھوں کی تعداد میں رام بھکتوں کے اجودھیا پہنچنے کے پیش نظر اترپردیش سے مرکز نے خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے ۔ وہاں مرکزی پولیس فورس کے تقریبا 4000جوانوں کو بھیجا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی آئینی بینچ نے اجودھیا معاملہ کی سماعت گزشتہ 16 اکتوبر کو پوری کرلی تھی اور اپنا فیصلہ محفوظ کرلیاتھا ۔ جسٹس گوگوئی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے یعنی 17 نومبر تک بینچ اس معاملے میں اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے ۔

دہائیوں سے جاری تنازع کے حل پر پورے ملک کی نظریں ہیں ۔ دونوں فریق اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کریں گے ۔ ہندو اور مسلم سماج نے لوگوں سے فیصلے پیش نظر سماجی بھائی چارہ بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے ۔

Loading...