ایودھیا معاملہ: مسلم فریق کے پاس بچا ہے اب یہ راستہ، سنی وقف بورڈ 17 نومبر کو کرے گا فیصلہ

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، مسلم پرسنل لا بورڈ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا مطالعہ کر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق، بورڈ کے کئی ارکان سپریم کورٹ کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔

Nov 11, 2019 08:53 AM IST | Updated on: Nov 11, 2019 09:06 AM IST
ایودھیا معاملہ: مسلم فریق کے پاس بچا ہے اب یہ راستہ، سنی وقف بورڈ 17 نومبر کو کرے گا فیصلہ

ایودھیا معاملہ: مسلم فریق کے پاس بچا ہے اب یہ راستہ، سنی وقف بورڈ 17 نومبر کو کرے گا فیصلہ

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے ایودھیا زمین تنازعہ کو لے کر فیصلہ سناتے ہوئے متنازعہ زمین رام للا کو دے دی ہے۔ وہیں، مسجد کے لئے ایودھیا میں ہی کسی دوسری جگہ پانچ ایکڑ زمین دینے کی ہدایت دی ہے۔ اب ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا دوسرا فریق اس فیصلے کو مانے گا یا پھر کوئی اور قدم اٹھائے گا۔

ریویو پٹیشن پر فیصلہ

Loading...

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، مسلم پرسنل لا بورڈ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا مطالعہ کر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق، بورڈ کے کئی ارکان سپریم کورٹ کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ بورڈ 17 نومبر کو ریویو پٹیشن( نظر ثانی کی عرضی) ڈالنے کو لے کر فیصلہ کرے گا۔ بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے ہفتہ کے روز اشارہ دیا تھا کہ وہ نظر ثانی عرضی کے ساتھ ایک بار پھر سپریم کورٹ جا سکتے ہیں۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے ارکان کا سوال ہے کہ سپریم کورٹ نے آخر کیسے ان کے حق میں فیصلہ نہیں سنایا۔ ان کی دلیل ہے کہ سپریم کورٹ نے مانا کہ قانون کو توڑتے ہوئے 6 دسمبر 1992 کو مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔ بورڈ کا یہ بھی ماننا ہے کہ انہوں نے ہندوؤں کو سیتا رسوئی اور چبوترے پر پوجا کرنے سے کبھی منع نہیں کیا۔ سنی وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس زمین کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اسے بس انصاف چاہئے۔

کیا تھا سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پوری متنازعہ زمین پر رام للا کا حق مانا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ متنازعہ زمین پر رام للا کا دعویٰ درست ہے۔ اس زمین پر مندر کی تعمیر کا خاکہ تیار کرنے کے لئے مرکزی حکومت کو تین مہینے میں ٹرسٹ بنانے کا حکم دیا ہے۔ مرکزی حکومت ہی ٹرسٹ کے ارکان کے نام طئے کرے گی۔

Loading...