رام امام ہند، لیکن متنازع مقام پر سنی وقف بورڈ کا حق: راجیو دھون

راجیو دھون نے کہا کہ ’’بھگوان رام کی بزرگی پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس بات پر بھی اختلاف نہیں ہے کہ بھگوان رام کا جنم اجودھیا میں کہیں ہوا تھا لیکن اس طرح کی بزرگی، کسی مقام کو ایک قانونی شخصیت میں تبدیل کرنے کا متبادل کب ہوگئی‘‘؟

Sep 17, 2019 03:47 PM IST | Updated on: Sep 17, 2019 03:48 PM IST
رام امام ہند، لیکن متنازع مقام پر سنی وقف بورڈ کا حق: راجیو دھون

سپریم کورٹ: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ ”ہے رام کے وجود پر ہندوستاں کو ناز۔ اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند‘‘۔سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازع پر سماعت کے آج 25 ویں دن سماعت کے دوران مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون نے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا۔

راجیو دھون نے کہا کہ ’’بھگوان رام کی بزرگی پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس بات پر بھی اختلاف نہیں ہے کہ بھگوان رام کا جنم اجودھیا میں کہیں ہوا تھا لیکن اس طرح کی بزرگی، کسی مقام کو ایک قانونی شخصیت میں تبدیل کرنے کا متبادل کب ہوگئی‘‘؟ سماعت کے دوران  دھون نے علامہ اقبال کے مذکورہ شعر کا ذکر کرکے رام کو امام ہند بتاتے ہوئے ان پر ناز کرنے کی بات کہی۔  دھون نے دلیل دی کہ ’جنم استھان‘ ایک شخص نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے دلیل دی کہ جنم اشٹمی بھگوان کرشن کے جنم دن کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن کرشن ’قانونی شخصیت‘ نہیں ہیں۔

شیعہ وقف بورڈ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے راجیو دھون نے دلیل دی کہ بابری مسجد وقف جائیداد ہے اور سنی وقف بورڈ کا اس پر حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے باہر کا رام چبوترہ 1885کے بعد ہی رام جنم استھان کے طورپر مشہور ہوا۔

Loading...

Loading...