ہوم » نیوز » وطن نامہ

ایودھیا تنازع : وہ آئی اے ایس افسر جس نے لال کرشن اڈوانی کو گرفتار کرنے سے کردیا تھا انکار

نئی نسل کو شاید ہی معلوم ہو کہ رام رتھ یاترا کے وقت بہار کے اس وقت کے وزیر اعلی لالو پرساد یادو کے حکم کے بعد بھی ایک ڈی ایم نے اڈوانی کو گرفتار کرنے سے انکار کردیا تھا ۔

  • Share this:
ایودھیا تنازع : وہ آئی اے ایس افسر جس نے لال کرشن اڈوانی کو گرفتار کرنے سے کردیا تھا انکار
لال کرشن اڈوانی ۔ فائل فوٹو ۔

رام مندر- بابری مسجد تنازع پر سرپم کورٹ کا فیصلہ آج صبح ساڑھے 10 بجے آئے گا ۔ اس آندولن کے سب سے بڑے کرداروں میں سے ایک لال کرشن اڈوانی کا 8 نومبر کو یوم پیدائش تھا۔ نئی نسل کو شاید ہی معلوم ہو کہ رام رتھ یاترا کے وقت بہار کے اس وقت کے وزیر اعلی لالو پرساد یادو کے حکم کے بعد بھی ایک ڈی ایم نے اڈوانی کو گرفتار کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ تاکہ سماج میں غلط پیغام نہ جائے۔ ان کا نام افضل امان اللہ تھا ۔ وہ اب ریٹائر ہوچکے ہیں۔


سینئر صحافی سریندر کشور کے مطابق، اڈوانی کو 23 اکتوبر 1990 کو سمستی پور میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ جس آئی اے ایس افسر افضل امان اللہ نے انہیں گرفتار کرنے سے انکار کردیا تھا، وہ سید شہاب الدین کے داماد ہیں ۔ شہاب الدین اس وقت بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر تھے ۔


advani 2


یہ کہانی 25 ستمبر 1990 کو شروع ہوتی ہے۔ رام مندر آندولن کو گرمانے کیلئے اڈوانی نے سومناتھ سے رتھ یاترا شروع کی ۔ یاترا کا پہلا مرحلہ 14 اکتوبر کو پورا ہوا ۔ اڈوانی دہلی پہنچے ۔ اس وقت کے وزیر اعظم نے 18 اکتوبر کو مغربی بنگال کے وزیر اعلی رہے جیوتی بسو کو دہلی بلایا ۔ بسو نے اڈوانی سے بات کی اور رتھ یاترا ملتوی کرنے کی اپیل کی ، لیکن اڈوانی نے بسو کا مشورہ ماننے سے انکار کردیا ۔

انیس اکتوبر کو اڈوانی دھنباد روانہ ہوئے ، جہاں سے انہوں نے دوسرا مرحلہ شروع کیا ۔ وہاں سے وہ اجودھیا پہنچ کر 30 اکتوبر کو رام مندر کی تعمیر کا کام شروع کرانا چاہتے تھے ۔ اس وقت بہار کے وزیر اعلی لالو پرساد یادو کی طوطی بولتی تھی ۔ انہوں نے دھنباد کے ڈی ایم افضل امان اللہ کو ہدایت دی کہ وہ اڈوانی کو وہیں گرفتار کرلیں ۔ انتظامیہ نے نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری وارنٹ تیار کرکے افسروں کو سونپ دیا ، لیکن امان اللہ نے گرفتار کرنے سے منع کردیا ۔

advani 3

سریندر کشور کہتے ہیں کہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر کا داماد اگر اڈوانی کو گرفتار کرتا تو کشیدگی بڑھ جاتی۔ یہی نہیں ایک مسلم افسر بھی ایسا کرتا تو بھی کشیدگی میں اضافہ کا اندیشہ تھا، اس لئے امان اللہ نے لالو یادو کے حکم کو نہیں مانا ۔ تاہم اڈوانی کو جس افسر نے گرفتار کیا تھا ، وہ آر کے سنگھ  ہیں جو اب بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر ہیں۔

اوم پرکاش کی رپورٹ
First published: Nov 09, 2019 08:18 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading