اجودھیا تنازع : سماعت کے آخری ہفتہ سے پہلے اجودھیا میں دفعہ 144 نافذ ، جانیں کیا ہے وجہ

ضلع افسر انوج جھا نے اجودھیا میں دفعہ 144 لگائی ہے ، جو 10 دسمبر تک نافذ رہے گی ۔

Oct 13, 2019 11:17 PM IST | Updated on: Oct 13, 2019 11:17 PM IST
اجودھیا تنازع : سماعت کے آخری ہفتہ سے پہلے اجودھیا میں دفعہ 144 نافذ ، جانیں کیا ہے وجہ

اجودھیا تنازع : سماعت کے آخری ہفتہ سے پہلے اجودھیا میں دفعہ 144 نافذ ، جانیں کیا ہے وجہ

اترپردیش کے اجودھیا میں بابری مسجد – رام مندر تنازع کے ممکنہ فیصلہ کو لے کر دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے ۔ ضلع افسر انوج جھا نے اجودھیا میں دفعہ 144 لگائی ہے ، جو 10 دسمبر تک نافذ رہے گی ۔ حالانکہ اجودھیا میں آنے والے عقیدتمندوں اور دیوالی مہوتسو پر دفعہ 144 کا کوئی اثر نہیں ہوگا ۔

بتایا جارہا ہے کہ دفعہ 144 نافذ کرنے کے پیچھے اجودھیا تنازع کا ممکنہ فیصلہ اور وشو ہندو پریشد کے دیپاتسو منانے کا مطالبہ ہے ۔ ساتھ ہی مسلم فریق نے بھی اس پر شدید اعتراض کیا ہے ۔ وہیں اجودھیا پر آنے والے فیصلہ کو لے کر ضلع انتظامیہ پوری طرح سے الرٹ ہے ۔

Loading...

دراصل وشو ہندو پریشد نے اس مرتبہ گربھ گرہ میں براجمان رام للا کے ساتھ دیوالی منانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وی ایچ پی کے میڈیا انچار شرد شرما نے کہا ہے کہ اس مرتبہ تو 51 ہزار دیپ رام للا کے سامنے جلائے جائیں گے ، لیکن آنے والی دیوالی سے پہلے رام للا کا عظیم الشان مندر بنے گا ۔

تو وہیں دیپاتسو کے مطالبہ کو لے کر مسلم فریق نے بھی سخت رخ اختیار کیا ہے ۔ مسلم فریق حاجی محبوب نے کہا کہ متنازع احاطہ میں اگر وشو ہندو پریشد کو دیپ جلانے کی اجازت ملتی ہے ، تو مسلم سماج بھی متنازع احاطہ میں نماز پڑھنے کی اجازت کا مطالبہ کرے گا۔

حاجی محبوب نے کہا کہ متنازع احاطہ میں سپریم کورٹ کا حکم نافذ ہوتا ہے ۔ وہاں کسی بھی طرح کے پروگرام کی اجازت نہیں ملنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وشو ہندو پریشد کو اجازت ملتی ہے ، تو مسلم سماج بھی نماز پڑھنے پر غور کرے گا ۔

Loading...