ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ایودھیا فیصلہ کے خلاف مسلم فریق کی مزید چار نظر ثانی کی عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل

ایودھیا تنازع میں سپریم کورٹ کے گزشتہ نو نومبر کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو کل پانچ نظر ثانی کی عرضیاں دائر کی گئی ہیں ، جن میں چار عرضیاں مسلم فریق کی طرف سے دائر کی گئی ہیں ۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 06, 2019 04:35 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ایودھیا فیصلہ کے خلاف مسلم فریق کی مزید چار نظر ثانی کی عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل
ایودھیا تنازع : سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی سبھی 18 عرضیوں کو کیا خارج

ایودھیا تنازع میں سپریم کورٹ کے گزشتہ نو نومبر کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو کل پانچ نظر ثانی کی عرضیاں دائر کی گئی ہیں ، جن میں چار عرضیاں مسلم فریق کی طرف سے دائر کی گئی ہیں ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ( اے آئی ایم پی ایل بی ) کی جانب سے محمد مصباح الدين ، مولاناحسب اللہ ، حاجی محبوب اور رضوان احمد نے نظر ثانی عرضیاں دائر کیں۔


بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ اگر ان درخواستوں کو اوپن کورٹ میں سماعت کے لئے منظور کیا جاتا ہے ، تو مسلم فریق کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ راجیو دھون ہی جرح کریں گے۔ وہیں ایک نظر ثانی کی عرضی پیس پارٹی نے بھی داخل کی ہے ۔ آج دائر پانچ عرضیوں کے ساتھ ہی ایودھیا کے رام جنم بھومی بابری مسجد زمین تنازع میں عدالت کے فیصلے کے خلاف اب تک کل چھ نظر ثانی کی عرضیاں دائر کی جا چکی ہیں ۔


سب سے پہلے جمعیتہ علمائے ہند نے گزشتہ دنوں عرضی دائر کی تھی ۔ سترہ نومبر کو ہی جمعیتہ علمائے ہند نے کہا تھا کہ عدالت کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے وہ اپنے آئینی حقوق کا استعمال کرے گی ۔


ہندو مہا سبھا کا بھی عرضی داخل کرنے کا فیصلہ

دریں اثنا آل انڈیا ہندو مہا سبھا نے بھی ایودھیا معاملے میں پانچ رکنی آئینی بنچ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مہا سبھا سنی وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ زمین دیے جانے کی مخالفت کرے گی ۔
First published: Dec 06, 2019 04:35 PM IST