ایودھیا فیصلے پر نظر ثانی کی عرضی کو لے کر مسلم فریقوں میں اختلاف رائے

لکھنئو میں ہوئی پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ کے بعد ظفریاب جیلانی اور مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ 30 دن کے اندر نظر ثانی کی عرضی داخل کر دی جائے گی۔

Nov 18, 2019 11:51 AM IST | Updated on: Nov 18, 2019 11:57 AM IST
ایودھیا فیصلے پر نظر ثانی کی عرضی کو لے کر مسلم فریقوں میں اختلاف رائے

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ میں نظرثانی کی عرضی داخل کرنے پر لیا گیا فیصلہ( فائل فوٹو)۔

لکھنئو۔  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیتہ علما ہند نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایودھیا پر سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بینچ کے ذریعہ دئیے گئے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی عرضی داخل کی جائے گی۔ اتنا ہی نہیں، پرسنل لا بورڈ نے مسجد کے لئے دوسری جگہ زمین لینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ حالانکہ، سنی سینٹرل وقف بورڈ اور اس معاملے کے اہم فریق اقبال انصاری کی رائے اس سے الگ ہے۔ سنی سینٹرل وقف بورڈ اور اقبال انصاری نے کہا ہے کہ وہ اس معاملہ میں نظر ثانی کی عرضی داخل نہیں کریں گے۔

لکھنئو میں ہوئی پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ کے بعد ظفریاب جیلانی اور مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ 30 دن کے اندر نظر ثانی کی عرضی داخل کر دی جائے گی۔ اتنا ہی نہیں، بورڈ کی طرف سے راجیو دھون ہی وکیل ہوں گے۔ ممتاز پی جی کالج میں ہوئی میٹنگ کے بعد جیلانی اور رحمانی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم انصاف کے لئے سپریم کورٹ گئے تھے نہ کہ کہیں اور تھوڑی سی زمین لینے کے لئے۔ مسجد کی زمین اللہ کی ہوتی ہے۔ شریعت کے مطابق، ہم دوسری زمین قبول نہیں کر سکتے۔

Loading...

وہیں، معاملہ میں اہم فریق اقبال انصاری اور سنی سینٹرل وقف بورڈ نے پرسنل لا بورڈ کے فیصلے سے کنارہ کر لیا ہے۔ اقبال انصاری نے کہا کہ مسلمانوں کی طرف سے پانچ فریق ہیں۔ کوئی کیا کہہ رہا ہے، اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہم نظر ثانی کی عرضی داخل نہیں کر رہے ہیں۔ اب اس کا کوئی مطلب نہیں ہے جب فیصلہ وہی رہے گا۔ اس سے سماجی ہم آہنگی بگڑے گی۔ دوسری طرف، سنی وقف بورڈ کے چئیرمین زفر فاروقی نے کہا کہ ہم نظر ثانی کی عرضی داخل نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ حالانکہ، پانچ ایکڑ زمین کو لے کر پرسنل لا بورڈ کے نظریہ پر غور کریں گے۔ سنی وقف بورڈ 26 نومبر کو اس پر تبادلہ خیال کرے گا۔

 

Loading...