ایودھیا میں مسجد کے لئے 5 ایکڑ زمین لیں یا نہیں، قانونی رائے کے بعد سنی وقف بورڈ کرے گا فیصلہ

سنی وقف بورڈ کے چئیرمین زفر فاروقی نے کہا کہ 26 نومبر کو ہونے والی بورڈ کی میٹنگ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے قانونی پہلوؤں پر غور وخوض کیا جائے گا۔

Nov 16, 2019 01:03 PM IST | Updated on: Nov 16, 2019 01:04 PM IST
ایودھیا میں مسجد کے لئے 5 ایکڑ زمین لیں یا نہیں، قانونی رائے کے بعد سنی وقف بورڈ کرے گا فیصلہ

زفر فاروقی: فائل فوٹو

ایودھیا۔  سپریم کورٹ نے گزشتہ نو نومبر کو ایودھیا معاملہ میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین ہندو فریقوں کو دینے کے ساتھ ہی سنی سینٹرل وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لئے ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب سنی وقف بورڈ نے صاف کیا ہے کہ وہ یہ زمین لے گا یا نہیں، اس پر قانونی رائے لینے کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔

سنی وقف بورڈ کے چئیرمین زفر فاروقی نے کہا کہ 26 نومبر کو ہونے والی بورڈ کی میٹنگ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے قانونی پہلوؤں پر غور وخوض کیا جائے گا۔ فاروقی کے مطابق، سپریم کورٹ کا فیصلہ 1000 صفحات سے زیادہ کا ہے اسے ابھی بھی پورا پڑھا نہیں جا سکا ہے۔ حالانکہ انہوں نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی عرضی داخل کرنے کے امکان سے انکار کیا۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کے سبھی طبقوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس معاملہ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے آنے والی رائے کو بھی اہمیت دی جائے گی۔ وقف بورڈ سبھی لوگوں کی رائے پر توجہ دے رہا ہے۔ ابھی جمعیتہ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اپنی رائے دی ہے کہ بورڈ کو پانچ ایکڑ زمین نہیں لینے چاہئیں۔ وہیں کئی اور لوگوں کی رائے آ رہی ہے کہ وقف بورڈ کو زمین لینی چاہئے۔ اس پر مسجد کے ساتھ ایک تعلیمی ادارہ کی تعمیر کرنی چاہئے۔ اس کے قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد بورڈ کے ارکان اس معاملے پر کوئی فیصلہ لیں گے۔

Loading...