உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوت اتارنے کے نام پر بابا نے خاتون کے ساتھ کر ڈالی گھٹیا حرکت، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کیا گرفتار

     ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق جس عورت کو مارا جا رہا ہے اسے شیطان نے پکڑ رکھا ہے۔ مندر کے بابا عورت کا بھوت اتارنے کے لئے اس کی پٹائی کر رہا ہے۔

    ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق جس عورت کو مارا جا رہا ہے اسے شیطان نے پکڑ رکھا ہے۔ مندر کے بابا عورت کا بھوت اتارنے کے لئے اس کی پٹائی کر رہا ہے۔

    ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق جس عورت کو مارا جا رہا ہے اسے شیطان نے پکڑ رکھا ہے۔ مندر کے بابا عورت کا بھوت اتارنے کے لئے اس کی پٹائی کر رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    ممبئی سے متصل نالاسوپارہ ویسٹ کے نیل موڑ گاؤں کے آدیواسی پاڑہ میں موجود ایک مندر میں بابا کے ذریعے ایک عورت کی پٹائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق جس عورت کو مارا جا رہا ہے اسے شیطان نے پکڑ رکھا ہے۔ مندر کے بابا عورت کا بھوت اتارنے کے لئے اس کی پٹائی کر رہا ہے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد توہم پرستی کے خاتمے کی کمیٹی کے ممبروں نے مارنے والے ڈھونگی بابا ہیمراج ناگرا کے خلاف نالاسوپارہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کروایا جس کےملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

    دھونگی بابا ذریعے ایک عورت کی پٹائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو کے حوالے سے۔توہم پرستی کے خاتمے کی کمیٹی کی رکن وندنا شندے نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نالاسوپارہ پولیس اسٹیشن پہنچیں اور نالاسوپارہ پولیس اسٹیشن کے عہدیداروں نے ویڈیو کی تفتیش کی اور ملزم بابا کو گرفتار کرلیا۔

    دکھاوا کرنے والے بابا ہیمراج کے خلاف مہاراشٹر نربلی کے سمیت غیر انسانی اورجادو ٹوناپابندی کی ایکٹ 2013 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔وندنا شندے (ممبر آندھ شادھا نرمولن سمیتی) نے کہا کہ جیسے ہی ہمیں اس معاملے کی معلومات ملی ، ہم نےخاتون سے ملاقات کی اور شکایت درج کرائی ، توہم پرستی پر یقین کرنا درست نہیں ۔ لوگوں کے ساتھ ساتھ باباؤں کی بھی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

    ولاس سوپے (سینئر پولیس انسپکٹر ، نالاسوپارہ پولیس تھانے) نے کہا کہ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ہمیں اس معاملے پر شکایت ملی جس کے بعد ہم نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے اور مزید تفتیش کی جارہی ہے.
    Published by:Sana Naeem
    First published: