ایودھیا تنازعہ: بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے موقف پرقائم

ایودھیا کے تاریخی تنازعہ کے پس منظر میں مختلف قسم کی رائے سامنے آتی رہی ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کسی حال میں بھی مقام عبادت نہیں چھوڑیں گے کچھ کہتے ہیں کہ مسجد مشروط شرائط کے ساتھ ہندو بھائیوں کو دے کراس معاملے کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیاجائے

Jul 02, 2019 10:54 AM IST | Updated on: Jul 02, 2019 10:57 AM IST
ایودھیا تنازعہ: بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے موقف پرقائم

بابری مسجد کے تعلق سے اٹھنے والی آوازوں پر ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے اپنے رد عمل کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ جمہوریت ہے اور اس میں ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق ہے ۔ لیکن محض کچھ آوازوں کے اٹھنے سے نہ اکثریت کو نظرانداز کیاجاسکتاہے۔ نہ شریعت و عدلیہ کی تقاضوں کوپس پشت ڈالا جاسکتاہے۔۔ لہذا بابری مسجد ایکشن کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے اپنے موقف پر قائم ہے۔

ایودھیا کے تاریخی تنازعہ کے پس منظر میں مختلف قسم کی رائے سامنے آتی رہی ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کسی حال میں بھی مقام عبادت نہیں چھوڑیں گے کچھ کہتے ہیں کہ مسجد مشروط شرائط کے ساتھ ہندو بھائیوں کو دے کراس معاملے کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیاجائےاورمقدمے کے ذمہ دار فریقوں کے پاس عدلیہ کے فیصلے کو ماننے کے لئے اپنے مدلل جوازوجواب موجود ہیں۔آل انڈیا فورم فارایودھیا ڈسپیوٹ سیٹلمنٹ ایک ایسی ہی تنظیم ہے جسکے ممبران مسجد چھوڑنے کی بات کرتے ہوئے تحریک چلارہے ہیں

Loading...

سب کے اپنے نظریے اور اپنےمطالبے ہیں اور اپنی رائے جمہوریت میں کوئی بھی دے سکتاہے۔ لیکن کسی بھی ایسے نظریے رائے اور عمل کے پیچھے کتنے سوال کتنی پیچیدگیاں اور مسائل ہوتے ہیں یہ کم لوگ سمجھ پاتے ہیں۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر اور آل انڈی امسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی کے لئے اس طرح کے مطالبے عام بات ہیں یہ بالکل اسی طلاق ثلاثہ کے قانون کی طرح ہے جسے بنوانے کے لئےچند خواتین سامنے لائی جاتی ہیں۔

حالانکہ مذکورہ تنظیم کی طرف سے دستخطی مہم بھی چلائی جارہی ہےاوربنارس وایودھیا میں مقیم ہندو سماج کے چند لوگوں کے ساتھ میٹنگس بھی ہوئی ہیں۔ لیکن امیر حیدر کی جانب سے ابھی اس کو صیغہء راز میں رکھاگیاہے۔اس تحریک کو کامیابی ملے گی یا اس کا جنازہ نکل جائے گا۔یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا فی الوقت تو ایکشن کمیٹی اور پرسنل لاء بورڈ اپنے دیرینہ موقف پر ہی قائم ہے

لکھنئوسے طارق قمرکی رپورٹ

Loading...