ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Babri Masjid Case: سی بی آئی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج، ایودھیا کے حاجی محبوب نے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی

بابری مسجد انہدام (Babri Masjid Case) معاملے میں لکھنو کی خصوصی سی بی آئی عدالت کے ذریعہ معاملے کے سبھی ملزمین کو بری کئے جانے کے خلاف لکھنو بینچ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔

  • Share this:
Babri Masjid Case: سی بی آئی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج، ایودھیا کے حاجی محبوب نے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی
سی بی آئی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج، ایودھیا کے حاجی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی

لکھنو: بابری مسجد انہدام معاملہ (Babri Masjid Case) ایک بار پھر عدالت پہنچ گیا ہے۔ لکھنو کی سی بی آئی عدالت کے حکم کے خلاف جمعہ کو الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے۔ عرضی حاجی محبوب کے ذریعہ داخل کی گئی ہے، جو ایودھیا سوٹ میں عرضی گزار ہیں۔ بابری مسجد انہدام معاملے میں لکھنو کی خصوصی سی بی آئی عدالت کے ذریعہ معاملے کے سبھی ملزمین کو بری کئے جانے کے خلاف لکھنو بینچ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔


سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف لکھنو بینچ میں کرمنل رویژن پٹیشن داخل کی گئی ہے۔ ایودھیا کے حاجی محبوب اور حاجی اخلاق نے عرضی داخل کی ہے۔ بابری مسجد انہدام معاملے میں یہ دونوں عرضی گزار گواہ بھی تھے۔ ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر فیض آباد کے روناہی کے دھنی پور گاوں میں مسجد بنانے کے لئے سپریم کورٹ نے حکومت کو 5 ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد یہاں پر مسجد کی تعمیر ہونی تھی، لیکن اس معاملے میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔




مسجد کی تعمیر کے لئے جس ڈیزائن کو تیار کیا گیا ہے، اسے بابری مسجد کے فریق رہے اقبال انصاری نے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے اس ڈیزائن کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک کی طرز پر مسجد کی ڈیزائن دی گئی ہے۔ ہم ہندوستان کے لوگ ہیں اور ہم ہندوستانی ڈیزائن پر مسجد کو قبول کریں گے۔ اقبال انصاری نے کہا کہ ایودھیا ہی نہیں، بلکہ ملک کا کوئی بھی مسلمان مسجد کے اس ڈیزائن کو قبول نہیں کرے گا۔ کیونکہ اس کی ڈیزائن بیرون ممالک کے طرز پر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 70 سالوں سے مسجد کے لئے لڑائی لڑی گئی، لیکن آج ایودھیا کے کسی بھی فریق سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا۔

اقبال انصاری نے ظاہر کی ناراضگی

بابری مسجد کے فریق رہے اقبال انصاری نے مسجد تعمیر کمیٹی سے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا کے ایک بھی فریق سے مسجد کی ڈیزائن کو لے کر کوئی بھی رائے مشورہ نہیں لیا گیا ہے۔ ہمیں ہندوستان کی ڈیزائن پر ہی مسجد چاہئے۔ اس لئے ابھی کے مسجد کے ڈیزائن کی میں مخالفت کرتا ہوں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 08, 2021 06:20 PM IST