ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بابری مسجد انہدام کیس: جماعت اسلامی ہند کی ملزمان کو بری کرنے کے فیصلےکو چیلنج کرنے کی حمایت

جماعت اسلامی ہند نے بابری مسجد انہدام کیس میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں نامزد افراد کے حق میں دیئے گئے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کرنے کی حمایت کی ہے۔

  • Share this:
بابری مسجد انہدام کیس: جماعت اسلامی ہند کی ملزمان کو بری کرنے کے فیصلےکو چیلنج کرنے کی حمایت
بابری مسجد انہدام کیس: جماعت اسلامی ہند کی ملزمان کو بری کرنے کے فیصلےکو چیلنج کرنے کی حمایت

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے بابری مسجد انہدام کیس میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں نامزد افراد کے حق میں دیئے گئے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کرنے کی حمایت کی ہے۔ امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ” فطری طور پر ہم اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ کیونکہ ملک کے انصاف پسند شہری کبھی بھی اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہم ایک سول سوسائٹی میں رہتے ہیں، جہاں قانون کی حکمرانی کو اہمیت دی جاتی ہے اور ہم عدالت کی طاقت کے سوا کسی کی حمایت نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی کسی تشدد کی، جو کسی سیاسی ایجنڈے یا مخصوص اہداف کے حصول کے لئے قانون کو نظر انداز کرتا ہے۔


بابری مسجد انہدام کیس میں تاریخ ہماری قوم کے ساتھ اچھا گمان نہیں رکھے گی جہاں انصاف میں تاخیر کی جاتی ہے اور ملزم گنہگاروں کو انعام کے طور پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔حسینی نے کہا اس فیصلے میں زندہ بچ جانے والے تمام 32 ملزمان کو بری کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”28 سال گزر جانے کے بعد بھی لوگوں نے جس انصاف کی تلاش کی تھی، وہ انصاف نہیں ملا۔


جماعت اسلامی ہند نے بابری مسجد انہدام کیس میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں نامزد افراد کے حق میں دیئے گئے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کرنے کی حمایت کی ہے۔
جماعت اسلامی ہند نے بابری مسجد انہدام کیس میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں نامزد افراد کے حق میں دیئے گئے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کرنے کی حمایت کی ہے۔


مذکورہ عدالت نے ثبوتوں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کردیا، جبکہ ابھی صرف 10 ماہ قبل ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اس انہدام کو ایک مجرمانہ عمل قرار دیا تھا اور اسے قانون کی خلاف ورزی بتایا تھا۔ آخر عدالت اس نتیجے تک کیسے پہنچی کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کی کوئی سازش نہیں رچی گئی تھی، یہ سب کچھ اچانک عمل میں آیا، اسے پہلے سے منصوبہ بند نہیں سمجھا جاسکتا۔ رام جنم بھومی تحریک اور رتھ یاتھرا کا آغاز ایل کے اڈوانی کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ انہیں اس کیس کا ملزم بنایا گیا تھا، جوکیس عین مسجد کی جگہ پر ایک مندر تعمیر کرنے کے مشن کے سوا کچھ نہیں تھا۔  اس مشن کے ملزم نے متعدد بار اس مسجد کو ایک مندر میں تبدیل کرنے کی بات دہرائی تھی اور اسے عوام کے سامنے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اگر یہ مجرمانہ عمل کی سازش کا ثبوت نہیں ہے جسے ہزاروں کارسیوکوں نے 6 دسمبر 1992 کو انجام دیا تھا، تو کیا ہے؟
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 30, 2020 11:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading