உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹی ایم سی میں شامل ہونے والے بابُل سپریو رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے مستعفی

    ٹی ایم سی میں شامل ہونے والے بابُل سپریو رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے دیا استعفیٰ

    ٹی ایم سی میں شامل ہونے والے بابُل سپریو رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے دیا استعفیٰ

    بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شامل ہونے والے سابق مرکزی وزیر بابل سپریو نے آج رکن اسمبلی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ بابل سپریو نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور اپنے استعفیٰ کی رسمی کارروائی مکمل کی۔

    • Share this:

      نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شامل ہونے والے سابق مرکزی وزیر بابل سپریو نے آج رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ بابل سپریو نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور اپنے استعفیٰ کی رسمی کارروائی مکمل کی۔ لوک سبھا اسپیکر کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بعد بابل سپریو نے صحافیوں سے کہا، ’میرا دل بھاری ہے، کیونکہ میں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز بی جے پی سے کیا تھا۔ میں وزیراعظم نریندر مودی، پارٹی صدر جگت پرکاش نڈا اور وزیر داخلہ امت شاہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا‘۔
      بابل سپریو نے کہا،’میں نے سیاست کو پورے دل سے چھوڑ دیا تھا کہ اگر میں پارٹی کا حصہ نہیں ہوں تو مجھے اپنے لئے رکن پارلیمنٹ کی سیٹ نہیں رکھنی چاہئے‘۔ بابل سپریو نے کہا،’میں نے یوگا گرو بابا رام دیو کی آشیرواد سے سیاست میں قدم رکھا۔ میں ان کا آشیرواد حاصل کرنے کے لئے ہری دوار جاؤں گا‘۔ انہوں نے کہا،’مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کی سربراہ ممتا بنرجی نے مجھ سے کہا ہے کہ مجھے عوام اور معاشرے کی خدمت کے لئے اب سیاست میں رہنا چاہئے۔ میں خدمت کے جذبے کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہوں گا‘۔




      بابل سپریو نے لوک سبھا انتخابات 2019 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر جیت حاصل کی تھی، لیکن اب وہ ترنمول کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں۔
      بابل سپریو نے لوک سبھا انتخابات 2019 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر جیت حاصل کی تھی، لیکن اب وہ ترنمول کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں۔

      گزشتہ ماہ ترنمول میں شامل ہونے کے بعد، بابل سپریو نے واضح کیا تھا کہ وہ رکن پارلیمنٹ کے عہدے پر نہیں رہیں گے، کیونکہ یہ غیر اخلاقی ہوگا۔ وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر مغربی بنگال کے آسنسول سے مسلسل دو مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ انہیں وزیر اعظم مودی کی کابینہ میں وزیر مملکت بھی بنایا گیا تھا، لیکن حالیہ کابینہ میں ردوبدل میں انہیں ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے راتوں رات سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا اور کچھ دنوں کے بعد وہ ترنمول میں شامل ہوگئے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: