کانگریس ناکامی اور بی جے پی وعدہ خلافی کی وجہ سے عوامی عتاب کا شکار : بدرالدین اجمل

نئی دہلی: آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ترون گگوئی کے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔

Apr 25, 2016 07:13 PM IST | Updated on: Apr 25, 2016 07:13 PM IST
کانگریس ناکامی اور بی جے پی وعدہ خلافی کی وجہ سے عوامی عتاب کا شکار : بدرالدین اجمل

نئی دہلی: آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ترون گگوئی کے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ اے آئی یو ڈی ایف اور بی جے پی میں خفیہ ساز باز ہے اور دونوں پارٹیاں مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھانا تو ہمیشہ سے کانگریس کی روایت رہی ہے اسی لئے گگوئی جی ہمیں بھی اسی آئینہ سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مولانا نے آسام کے وزیر اعلیٰ کو کو چیلنج کیا ہے کہ سات دن کے اندر وہ یا تو ثابت کریں کہ ہمارا بی جے پی سے ساز باز ہے یا پھر اپنے بیان کو واپس لیں ورنہ ہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری پارٹی کا قیام ہی ہر مذہب اور طبقہ کے لوگوں اور خاص طور پر کمزور اور مظلوم لوگوں کے حقوق کی لڑائی کے لئے ہواہے اور ہر مذہب کے لوگوں کی اس میں نمائندگی ہے، اس لئے یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے۔

مولانا نے کہا کہ در اصل کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیاں ہماری پارٹی اے آئی یو ڈی ایف کی بڑھتی ہو ئی مقبولیت سے گھبرائی ہوئی ہے اسی لئے وہ ہمیں بدنام کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ عوام دونوں ہی پارٹیوں کی کرتوں اوروعدہ خلافی سے اچھی طرح واقف ہے۔ ایک طرف جہاں کانگریس نے آسام میں اپنے پچپن (گزشتہ چالیس سالہ اور موجودہ پندرہ سالہ) سالہ دور اقتدار میں لوگوں کو بے وقوف بنانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے آسام آج بھی بیکوارڈ صوبوں میں سے ایک ہے جہاں بے روزگاری،ناخواندگی،غربت جیسے سینکڑوں مسائل ہیں جسے حل کرنے میں کانگریس کی موجودہ صوبائی سرکار پوری طرح ناکام رہی ہے۔

خاص طور سے اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو صرف ووٹ بینک کے لئے استعمال کیا ہے،اقلیتی اکثریتی علاقوں میں روڈ کی حالت خستہ ہے، پینے کے پانی کی قلت ہے،اسکول اور کالج کی کمی ہے اور ہاسپیٹل نہ کہ برابر ہے اور اقلیتوں کے لئے مرکزی اسکیم ایم ایس ڈی پی کو نافذ کرنے میں سب سے پیچھے ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس سرکار نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج عوام اس سرکار سے اوب چکی ہے اور اسے اقتدار کی کرسی سے ہٹھا نا چاہتی ہے۔

Loading...

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری طرف بی جے پی نے پچھلے لوک سبھا الیکشن میں ملک اور آسام کی ترقی کے بڑے بڑے وعدے کرکے یہاں کی سات سیٹوں پر جیت درج کیا تھا مگر مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد ان وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے نیز کئی معاملوں میں وعدہ خلافی کرنے کی وجہ بی جے پی سے لوگ ناراض ہیں۔مثال کے طور پر اقتدارمیں آنے سے پہلے وزیر اعظم اپنی تمام ریلیوں میں کہا کرتے تھے کہ وہ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ کرکے اس ملک کو ترقی کی راہ پر لے جائیں گے اورسب کا ساتھ سب کا وکاس کے فارمولہ پر عمل کریں گے مگر سب جانتے ہیں کہ مرکزی سرکار ان سب چیزوں میں ناکام رہی ہے۔

اسی طرح انہوں نے کہا تھاکہ کسی بھی قیمت پر آسام کی زمین بنگلہ دیش کو نہیں دیں گے مگر اقتدار میں آتے ہی ہزاروں ایکڑ زمین بنگلہ دیش کو دے دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے آسام کی ترقی کے لئے خصوصی پیکج کا وعدہ کیا تھا مگر اقتدار میں آتے ہی آسام کو خصوصی امداد پانے والے صوبوں کی فہرست سے نکال دیا۔ان حالات میں ہر مذہب اور ہر طبقہ کے لوگ ہماری پارٹی اے آئی یو ڈی ایف کو امید کی کرن سمجھ رہے ہیں اور اس سے جڑ رہے ہیں جس سے کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیاں ہواس باختہ ہے اور آسام کے وزیر اعلیٰ ترون گگوئی کا بیان اسی گھبراہت کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پر بی جے پی لیڈر ہمانتو بشوا شرما سے ساز باز کا الزام لگانے والے ترون گگوئی اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکتے مگر سب جانتے ہیں کہ ابھی کچھ دنوں پہلے ان کے بیٹے گورو گگوئی اورہمانتو بشوا شرما کے بیچ کئی گھنٹوں پر مشتمل میٹنگ ہوئی تھی۔ اور ہمیں شک ہے کہ وہیں ان لوگوں نے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے اور ہماری پارٹی کی بڑھتی مقبولیت سے خوف زدہ ہوکر اسے بدنام کرنے کی سازش رچی ہو کیونکہ اس کے بعد ہی دونوں پارٹیوں کے لیڈران نے اے آئی یو ڈی ایف کے خلاف مورچہ کھول لیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر الیکشن سے پہلے کانگریس اور بی جے پی ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اس کے لئے کئی مرتبہ نام نہاد افراد اور نامعلوم تنظیموں کا بھی استعمال کیا گیا ہے مگر عوام نے ہمیشہ اپنی حمایت اور محبت دیکر ہماری حوصلہ افزائی کی ہے اور اس طرح ہم ہر الیکشن کے ساتھ اپنی کامیابی کا دائرہ وسیع کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔اسی لئے ہمیں پوری امید ہے کہ تمام تر سازشوں کے با وجود ہم بڑی جیت حاصل کر کے تاریخ رقم کریں گے۔

Loading...