ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کسان آندولن: مرزا پور کے بعد بڑوت مہا پنچایت میں کسانوں کا سیلاب، زرعی قوانین کی واپسی تک آندولن کا اعلان

باغپت کے بڑوت میں اتوارکو کسانوں نے مہا پنچایت بلائی ہے۔ یہ پنچایت ابھی بھی جاری ہے، جس میں بڑی تعداد میں کسان پہنچے ہیں۔ پنچایت میں کسان لیڈروں نے دو ٹوک لہجے میں اعلان کر دیا ہے کہ حکومت کو یہ قانون واپس لینے ہی ہوں گے۔

  • Share this:
کسان آندولن: مرزا پور کے بعد بڑوت مہا پنچایت میں کسانوں کا سیلاب، زرعی قوانین کی واپسی تک آندولن کا اعلان
کسان آندولن: مرزا پور کے بعد بڑوت مہا پنچایت میں کسانوں کا سیلاب

باغپت: غازی آباد بارڈر (Ghaziabad border) پرراکیش ٹکیٹ (Rakesh Tikait) کی جذباتی اپیل کے بعد مغربی اترپردیش میں کسان زرعی قوانین کی مخالفت میں لام بند ہونے لگے ہیں۔ اس کو لے کر باغپت کے بڑوت میں اتوار کو کسانوں نے مہا پنچایت بلائی ہے۔ یہ پنچایت ابھی بھی جاری ہے، جس میں بڑی تعداد میں کسان پہنچے ہیں۔ پنچایت میں کسان لیڈروں نے دو ٹوک لہجے میں اعلان کر دیا ہے کہ حکومت کو یہ قانون واپس لینے ہی ہوں گے۔ مہا پنچایت (Kisan Mahapanchayat) میں مرکزی حکومت سے زرعی قوانین کو لے کر یہاں کسانوں نے لمبی لڑائی لڑنے کے اشارے بھی دے دیئے ہیں۔


واضح رہے کہ اس کے پہلے مظفر نگر میں مہا پنچایت کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس مہا پنچایت میں ہزاروں کی تعداد میں کسان پہنچے تھے۔ اس کے بعد اب بڑوت تحصیل میں بھی مہا پنچایت کے انعقاد کو لے کر انتظامیہ کی نیند اڑی ہوئی ہے۔ بڑوت میں کسان مہا پنچایت میں کسانوں کی بھیڑ دیکھ کر سیکورٹی کے بھی زبردست ابتظامات کئے گئے ہیں۔ مہاپنچایت کے مد نظر پولیس انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہوگئی ہے۔ چپے چپے پر پولیس تعینات ہے۔ مہا پنچایت میں آر ایل ڈی کے قومی نائب صدر جینت چودھری بھی شامل ہونے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ پنچایت دیر شام تک چلنے کی بات کہی جا رہی ہے، لیکن اس کے لئے صبح سے ہی پنچایت کے مقام پر کسانوں کی بھاری بھیڑ امنڈنی شروع ہوگئی تھی۔


کسان مہاپنچایت کا بڑا بیان


پنچایت کے مقام پر دیش کھاپ کے چودھری سریندر سنگھ پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مرکزی حکومت کے تینوں زرعی قوانین کے خلاف ہیں۔ یہ تینوں قانون کسان کے مفاد میں نہیں ہیں، اس لئے پوری طاقت کے ساتھ اس کی مخالفت ہوگی۔ مہا پنچایت میں پہنچے کسان لیڈروں نے کہا کہ تینوں قانون واپس نہیں لینے تک ان کا آندولن جاری رہے گا۔ کسان لیڈروں نے کسانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں پر درج کئے گئے مقدمے بھی واپس ہونی چاہئے۔ کسانوں پر لاٹھی چارج کرنے والے پولیس ملازمین کے خلاف بھی حکومت کو کارروائی کرنی ہوگی۔

مہا پنچایت کے دوران دیش کھاپ کے لیڈر برج پال چودھری نے کہا کہ لڑائی کسانوں کے احترام کا ہے۔ پولیس انتظامیہ جابرانہ پالیسی اپنا رہی ہے۔ کسانوں کو لاٹھیوں سے ڈرا کر گھروں میں رہنے کی بات کہی جا رہی ہے، لیکن زرعی قوانین واپس ہونے تک آندولن جاری رہے گا۔ مہا پنچایت کو پنوار کھاپ، چوباسی اور راٹھی کھاپ نے بھی مہا پنچایت کو حمایت دی ہے۔ وہیں مہا پنچایت کے مد نظر پولیس انتظامیہ نے الرٹ ہوکر پولیس کی مستعدی بڑھا دی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 31, 2021 06:53 PM IST