ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Baghpat News: پولیس نے خالی کرایا باغپت بارڈر، زرعی قوانین کے خلاف 40 دنوں سے دھرنا دے رہے کسانوں کو ہٹایا

Baghpat News: اے ڈی ایم باغپت امت کمار کی مانیں تو ان کسانوں نے گزشتہ کافی دنوں سے نیشنل ہائی وے کے ایک طرف کا راستہ جام کر رکھا تھا۔ آج این ایچ آئی نے ہائی وے خالی کروانے کو لے کر ضلع انتظامیہ کوخط لکھا تھا۔ اسی خط پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس انتظامیہ نے ہائی وی خالی کرایا ہے۔

  • Share this:
Baghpat News: پولیس نے خالی کرایا باغپت بارڈر، زرعی قوانین کے خلاف 40 دنوں سے دھرنا دے رہے کسانوں کو ہٹایا
پولیس نے خالی کرایا باغپت بارڈر، زرعی قوانین کے خلاف 40 دنوں سے دھرنا دے رہے کسانوں کو ہٹایا

+باغپت: اترپردیش (Uttar Pradesh) کے باغپت (Baghpat) میں زرعی قوانین کی مخالفت میں گزشتہ 40 دنوں سے چل رہے احتجاج (Dharna) کو پولیس انتظامیہ (Police) نے بدھ کی نصف شب ختم کروا دیا۔ ڈی ایم اور ایس پی کے حکم پر دھرنے کی جگہ پر پہنچی کئی تھانوں کی پولیس فورس نے ہلکی طاقت کا استعمال کرکے دھرنا کی جہگہ پر موجود کسانوں کو بھگا دیا۔ نیشنل ہائی وے 709 بی پر چل رہے دھرنے میں درجنوں سے زیادہ لوگ بیٹھے تھے، جنہیں پولیس نے دھرنا کی جگہ سے بھگا کر واپس گھر بھیج دیا۔


اے ڈی ایم باغپت امت کمار کی مانیں تو ان کسانوں نے گزشتہ کافی دنوں سے نیشنل ہائی وے کے ایک طرف کا راستہ جام کر رکھا تھا۔ آج این ایچ آئی نے ہائی وے خالی کروانے کو لے کر ضلع انتظامیہ کو خط لکھا تھا۔ اسی خط پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس انتظامیہ نے ہائی وے خالی کرایا ہے۔


40 دنوں سے چل رہا تھا دھرنا


واضح رہے کہ باغپت کے بڑوت میں گزشتہ 40 دنوں سے نیشل ہائی وے 709b پر کسان یونین اور کھاپ چودھریوں کا دھرنا چل رہا تھا۔ ضلع انتظامیہ نے کئی بار مصالحت کراکر دھرنا ختم کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن کوئی کامیابی ہاتھ نہیں لگی۔ آج ایس پی باغپت ابھیشیک کمار اور ڈی ایم راج کمل یادو کی قیادت میں بھاری پولیس فورس دھرنا کی جگہ پر پہنچی اور ہلکی طاقت کا استعمال کرکے کسانوں کا احتجاج ختم کروا دیا۔ اس دوران انتظامیہ نے ہائی وے پر بنا کسانوں کا تنبو گرا دیا اور احتجاج کے مقام پر رکھا سامان ٹریکٹر میں بھر کر واپس بھجوا دیا۔ کسانوں کا دھرنا جب پولیس نے ختم کروایا تو ڈی ایم، ایس پی، اے ڈی ایم سمیت تمام افسران اور کئی تھانوں کی پولیس فورس موقع پر موجود رہی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 28, 2021 09:09 AM IST