پنچایت کا فرمان: لڑکیوں نے جینز یا تنگ کپڑے پہنے تو خاندان سمیت بائیکاٹ

باغپت۔ اتر پردیش کے باغپت ضلع میں ایک گاؤں کی پنچایت نے لڑکیوں کے جینز اور دیگر تنگ کپڑے پہننے کو سماجی برائیوں کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے ایسے کپڑے پہننے پر پابندی لگا دی ہے۔

Apr 11, 2016 07:44 PM IST | Updated on: Apr 11, 2016 07:46 PM IST
پنچایت کا فرمان: لڑکیوں نے جینز یا تنگ کپڑے پہنے تو خاندان سمیت بائیکاٹ

باغپت۔ اتر پردیش کے باغپت ضلع میں ایک گاؤں کی پنچایت نے لڑکیوں کے جینز اور دیگر تنگ کپڑے پہننے کو سماجی برائیوں کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے ایسے کپڑے پہننے پر پابندی لگا دی ہے اور آگاہ کیا ہے کہ اس پرعمل نہیں کرنے والی لڑکیوں اور عورتوں کا ان کے خاندان سمیت بائیکاٹ کیا جائے گا۔

ضلع کے باولی گاؤں کی پنچایت میں لئے گئے فیصلے کی جانکاری دیتے ہوئے گاؤں کے اوم وير نے بتایا کہ کل گاؤں میں منعقد پنچایت میں سماجی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اہم مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد پنچایت نے سب سے پہلے لڑکیوں کے جینز اور تنگ لباس پہننے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔

Loading...

انہوں نے بتایا کہ پنچوں نے کہا ہے کہ لڑکیوں کا پہناوا دن بہ دن بگڑتا جا رہا ہے جو سماج اور خود لڑکیوں کے مفاد میں نہیں ہے اس لئے اب اگر گاؤں کی کسی لڑکی نے جینس یا ٹائٹ کپڑے پہنے تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔ اس کے بعد بھی لڑکی نہیں مانی تو اس کا اور اس کے خاندان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔

اوم وير نے کہا کہ کوئی بھی پہناوا وہاں کے ماحول کے حساب سے پہنا جائے۔ مغربی ممالک میں جینز اور تنگ لباس پہننے کا پرانا رواج ہے، وہاں یہ ایک عام بات ہے۔ اس سے ان کے معاشرے میں عام طور پر خرابی نہیں پھیلتی لیکن ہمارے معاشرے میں ہمیشہ سے لڑکیوں کا جسم چھپانے کی چیز رہی ہے۔ ہندستانی ماحول میں لڑکیوں کے تنگ لباس پہننے سے شرم وحیا کی روایت کو چوٹ پہنچتی ہے، لہذا پنچایت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

Loading...