ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آئی ایس آئی ایس کے مشکوک دہشت گرد ابو یوسف کی اہلیہ نے کہا- شوہر نے گناہ قبول کیا، اب معاف کردو

ISIS Suspected Terrorist Abu Yusuf: اہلیہ کے مطابق ابو یوسف نے دہشت کا پلان بنایا تھا۔ ٹیلی گرام ایپ کے ذریعہ آئی ایس آئی ایس کے ہینڈلرس سے وہ جڑا تھا۔ آئی ایس آئی ایس کے اشارے پر وہ بم بنا رہا تھا۔

  • Share this:
آئی ایس آئی ایس کے مشکوک دہشت گرد ابو یوسف کی اہلیہ نے کہا- شوہر نے گناہ قبول کیا، اب معاف کردو
آئی ایس آئی ایس کے مشکوک دہشت گرد ابو یوسف کی اہلیہ نے کہا- شوہر نے گناہ قبول کیا، اب معاف کردو

بلرام پور/ لکھنو: دہلی کے دھولا کنواں سے گرفتار آئی ایس آئی ایس (ISIS) کے مشکوک دہشت گرد (Suspected Terrorist)  ابو یوسف (Abu Yusuf) عرف مستقیم کی گرفتاری کے بعد اہلیہ نے انکشاف کیا ہے کہ شوہر کو بہت سمجھایا تھا کہ ایسا نہ کریں۔ اہلیہ عائشہ نے بتایا کہ بچوں کا بھی حوالہ دیا تھا اور کہا تھا سبھی برباد ہوجائیں گے، لیکن انہوں نے نہیں سنا۔ اب انہوں نے اپنا گناہ قبول کرلیا ہے، انہیں معاف کردیجئے۔


نیوز 18 کے ساتھ بات چیت میں اہلیہ عائشہ نے بتایا کہ آئی ایس آئی ایس کے مشکوک دہشت گرد ابو یوسف ٹیلی گرام کے ذریعہ سے کچھ لوگوں سے جڑے تھے۔ ہفتہ کو پولیس نے گھر سے دو جیکیٹ، بارود، چھرا اور بوتلوں میں کچھ ملا ہے۔ میں نے کئی بار سمجھایا تھا کہ یہ سب چھوڑ دو۔ سمجھایا تھا کہ ہمارے درمیان برباد ہو جائیں گے۔ وہ یو ٹیوب پر ویڈیو دیکھتے تھے اور تقریریں سنتے تھے۔ انہوں نے اپنی غلطی قبول کرلی ہے۔ انہیں معاف کردیا جائے، وہ جمعہ کو گھر سے لکھنو جانے کے لئے نکلے تھے۔ گھر سے پریشر کوکر لے گئے تھے۔




واضح رہے کہ اس سے پہلے والد کفیل احمد نے بتایا تھا کہ ابو یوسف نویں کلاس تک پڑھا ہے، لیکن اہلیہ کے مطابق ابو یوسف نے دہشت کا پلان بنایا تھا۔ ٹیلی گرام ایپ کے ذریعہ آئی ایس آئی ایس کے ہینڈلرس سے وہ جڑا تھا۔ آئی ایس آئی ایس کے اشارے پ وہ بم بنا رہا تھا۔2005 میں 6 مہینے میں ٹورسٹ ویزا پر تھا۔ دبئی سے لوٹ کر کچھ وقت وہ حیدرآباد میں رہا تھا۔ 2006 سے 2011 سے سعودی عرب میں رہا۔ 2011 میں ابو یوسف کا نکاح عائشہ سے ہوئی۔ 2015 میں 15 دن کے لئے عرب ملک قطر میں اس نے کام کیا۔ قطر سے لوٹ کر سیدھے اتراکھنڈ گیا۔ اتراکھنڈ میں ایک حادثہ کا شکار ہوا۔ ریڑھ کی ہڈی میں ابو یوسف کو چوٹ لگی تھی، جس کے بعد اس نے اترولہ میں کاسمیٹک کی دوکان کھولی، لیکن دوکان پر وہ بہت کم بیٹھتا تھا۔ زیادہ وقت یو ٹیوب پر ویڈیو اور تقریریں دیکھنے میں بتاتا تھا۔

دوسری جانب ابو یوسف کے والد کفیل احمد نے کہا کہ اس کی اس کرتوت سے باپ - دادا کی کمائی اور عزت مٹی میں مل گئی۔ نیوز 18 سے بات چیت کرتے ہوئے والد رو پڑے اور کہا کہ بیٹے کی اس کرتوت پر افسوس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹا اور اس کی فیملی گھر میں ساتھ ہی رہتے تھے، لیکن کھانا الگ بنتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا گاوں میں کسی سے مطلب نہیں رکھتا تھا۔

رشبھ منی ترپاٹھی کی رپورٹ
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 23, 2020 05:05 PM IST