உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Haryana:لمپی بیماری کی وجہ سے جانوروں کو ایک سے دوسرے ضلع میں لانے اور لے جانے پر لگی پابندی،8 اضلاع میں دفعہ 144 لاگو

    سائنسدانوں کھوج چکے ہیں لمپی وائرس کی ویکسین۔

    سائنسدانوں کھوج چکے ہیں لمپی وائرس کی ویکسین۔

    Haryana lumpy Disease: ماہرین کے مطابق یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں نہیں پھیلتی ہے، اس لئے بنا کسی ڈر کے اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کریں۔ متاثرہ جانوروں کو دیگر جانوروں سے علیحدہ رکھیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Haryana | Hisar | Delhi | Uttar Pradesh | Lucknow
    • Share this:
      Haryana lumpy Disease: لمپی کی بیماری کو روکنے کے لیے ہریانہ حکومت نے جانوروں کو ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں لے جانے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ مویشی میلوں اور جانوروں کی فروخت پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ ڈی سی نے متعلقہ اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ چیف سکریٹری سنجیو کوشل نے ہفتہ کے روز ریاست کے تمام ڈپٹی کمشنروں اور افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور جنگی بنیادوں پر ٹیکہ لگانے کا حکم دیا ہے۔

      انہوں نے بتایا کہ 60 فیصد ویکسینیشن ہو چکی ہے۔ پیر تک ریاست میں 100 فیصد ویکسینیشن ہو جائے گی۔ اس کے بعد مزید پانچ لاکھ خوراکیں دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ متاثرہ جانوروں کو کسی اور محفوظ جگہ پر لے جانے کے لیے جلد اضافی جگہ کا انتخاب کیا جائے تاکہ یہ بیماری صحت مند جانوروں کو متاثر نہ کرے۔ کوشل نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے افسران کو حکم دیا کہ وہ بیماری کی وجہ سے خوف کا ماحول پیدا نہ ہونے دیں۔

      محکمہ مویشی پالن کو چاہیے کہ وہ شہریوں کو آگاہ کرے کہ لمپی اسکن کی بیماری سے متاثرہ گائے کا دودھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ دودھ کو ابالنے کے بعد ہی استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ریاست میں 30225 جانور متاثر ہیں۔

      مردہ جانوروں کو محکمہ انیمل ہسبنڈری کے بتائے ہوئے طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔
      چیف سیکرٹری نے کہا کہ مردہ جانوروں کو ٹھکانے لگانے کا عمل محکمہ حیوانات کے بتائے ہوئے طریقے سے کیا جائے۔ اس کے لیے 8 سے 10 فٹ کا گڑھا کھود کر جانوروں کو دبا دیں۔ متاثرہ جانوروں کی لاشوں کو کھلے میں نہ چھوڑیں۔

      ویکسینیشن کے لئے گئو-سیوا کمیشن اور گئو-رکشکوں کی لیں مدد
      چیف سکریٹری نے کہا کہ جانوروں کی ویکسینیشن کے لیے گئو سروس کمیشن اور گئو رکشکوں کا تعاون بھی لیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ لالہ لجپت رائے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنس حصار وغیرہ کے طلبہ کا تعاون لیا جائے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Tomato flu:کیرل میں تیزی سے بڑھ رہا ٹومیٹو فلو، اب تک 82 بچوں کو ہوا انفیکشن، پڑھیں تفصیل

      یہ بھی پڑھیں:
      Earthquake News :لکھنو سمیت کئی جگہ زلزلے کے جھٹکے، ری ایکٹر پیمانے پر 5.2 رہی شدت

      کسانوں کے لئے گائیڈلائنس جاری
      ماہرین کے مطابق یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں نہیں پھیلتی ہے، اس لئے بنا کسی ڈر کے اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کریں۔ متاثرہ جانوروں کو دیگر جانوروں سے علیحدہ رکھیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: