உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    "بنگارو تلنگانہ" خواب کی تعبیر Education کے شعبہ میں ترقی اور تعلیمی بجٹ میں اضافہ سے ہی ممکن : ایس آئی او تلنگانہ

    "بنگارو تلنگانہ" خواب کی تعبیر Education کے شعبہ میں ترقی اور تعلیمی بجٹ میں اضافہ سے ہی ممکن : ایس آئی او تلنگانہ

    "بنگارو تلنگانہ" خواب کی تعبیر Education کے شعبہ میں ترقی اور تعلیمی بجٹ میں اضافہ سے ہی ممکن : ایس آئی او تلنگانہ

    Telangana News : ڈاکٹر طلحہ فیاض الدین ، ریاستی صدراسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا حلقہ تلنگانہ نے کہا کہ ریاست کی تعلیمی صورتحال پریشان کُن ہے، اس جانب حکومت کی توجہ ضروری ہے، اسی سلسلہ میں ایس آئی او نے بجٹ سیشن کے لئے مختلف تجاویز اور مطالبات جاری کیے۔ یہ مطالبات بذریعہ میڈیا ، وزراء اور اراکینِ اسمبلی سے ملاقاتوں سے حکومت تک پہنچائے جارہے ہیں۔

    • Share this:
      حیدرآباد: دستور میں ہندوستان کو ایک "فلاحی [ویلفئر] ریاست" قرار دیا گیا ہے، اس کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ادا کرے اور ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کرے۔ اس سلسلہ میں کوتاہی عوام  اور سماج  سے خیانت کے مترادف ہے۔ کسی بھی ریاست کا تعلیم کے میدان میں اخراجات، اس ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے عزائم اور منصوبہ بندی کوظاہر کرتا ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں ہونے والے اخراجات، فی الفور نتائج تو نہیں دکھائیں گے تاہم یہ ریاست کے مستقبل کو طے کریں گے۔ قیامِ تلنگانہ کے 8 سال گزرجانے کے باوجود بھی یہاں کی عوام "سنہرا تلنگانہ" کے حصول کی منتظر ہے جس کے لیے انہوں نے جدوجہد کی تھی۔  بدقسمتی سے، اس خواب کی تکمیل کی کوششوں میں تیزی کے بجائے دیگربے جا  ترجیحات ریاست کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔  نئی ریاست کے بجٹ 2014-15 میں جملہ بجٹ کا 10.89% شعبہ تعلیم کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ لیکن افسوس کی بات یہ کہ ہر سال بتدریج اس بجٹ میں کمی آتی گئی اور گزشتہ سال کے بجٹ کا محض 6.8%بجٹ تعلیم کے لیے مختص کیا گیا۔

      ڈاکٹر طلحہ فیاض الدین ، ریاستی صدراسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا حلقہ تلنگانہ نے ان خیالات کا اظہار دفتر حلقہ ، چھتہ بازار پر منعقدہ پریس میٹ کے دوران کیا اور کہا کہ ریاست کی تعلیمی صورتحال پریشان کُن ہے، اس جانب حکومت کی توجہ ضروری ہے، اسی سلسلہ میں ایس آئی او نے بجٹ سیشن کے لئے مختلف تجاویز اور مطالبات جاری کیے۔ یہ مطالبات بذریعہ میڈیا ، وزراء اور اراکینِ اسمبلی سے ملاقاتوں سے حکومت تک پہنچائے جارہے ہیں۔

       

      یہ بھی پڑھئے : کناڈا میں اچانک کیوں بند ہو رہے ہیں تین کالج؟ مصیبت میں ہزاروں ہندوستانی طلبہ، ایڈوائزری جاری


      مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی میدان میں کارکردگی کے سلسلہ میں مختلف کمیٹیاں جیسے سچر کمیٹی اور سدھیر کمیشن نے تحقیقی رپورٹس پیش کیں اور مختلف تجاویز پیش کیں جس کے ذریعہ مسلمانوں کی موجودہ خراب صورتحال کو بہتر بنایا جائے، ان تمام کمیٹیوں کی تجاویز کے مدنظر ایس آئی اونے حکومت سے مختلف مطالبات کئے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت ان تجاویز پر غور کرتے ہوئے ان کو بجٹ میں شامل کرے۔

      ایس آئی او نے مطالبہ کیا کہ حکومت مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی سرگرمیوں کے لئے "مسلم سب پلان" بنائے تاکہ اس پر مختص بجٹ کا دیگر  کاموں میں استعمال نہ کیا جائے۔ اس میں بہتر عمل آوری کے لئے "ضلعی سطح کے مسلم ڈیولپمنٹ بورڈ "تشکیل دیے جائیں۔ مسلم طلبہ کی تعلیمی صورتحال بالخصوص کووڈ -19 کے بعد  اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ایس ائی او نے مطالبہ کیا کہ اقلیتی اسکالر شپ کے فنڈ میں اضافہ کیا جائے ، کووڈ-19 کی وجہ سے کئی خاندان متاثر ہوئے ہیں مزید یہ کہ گزشتہ سال تقریباً 15 لاکھ طلبہ تک اسکالرشپ کی رسائی نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ایسے میں اسکالرشپ کی وقت پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : کیا چارمینار اور گولکنڈہ قلعہ کو جوڑنے والی کوئی خفیہ سرنگ ہے ؟


      مسلم طلبا و طالبات کی تعلیمی صورتحال اور رسائی کو ممکن بنانے کے لئے بہتر انفراسٹرکچر مہیا کیا جائے، اس ضمن میں ایس آئی او نے مطالبہ کیا کہ حکومت مسلم لڑکے اور لڑکیوں کے لئے ضلعی سطح پرعلیحدہ  ہاسٹلس قائم کرے۔ روزگار کے سلسلہ میں ٹکنیکل اور ووکیشنل کورسس اہم ہے، فی الوقت 33 اضلاع میں محض 10 میں پالی ٹکنک کالجز ہیں، ایس آئی او نے مطالبہ کیا کہ ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر ان کالجز کو قائم کیا جائے۔

      سماج کی تعلیمی ترقی میں یونیورسٹیز کا اہم کردار ہوتا ہے، یونیورسٹیز کے ذریعہ تعلیم تک رسائی میں آسانی ہوتی ہے، ریاست میں محض 10 اضلاع میں ریاستی یونیورسٹیز ہیں، ایس آئی او نے تجویز پیش کی کہ ہر ریاستی صدر مقام پر یونیورسٹی کو قائم کیا جائے۔ ساتھ ہی ریاستی یونیورسٹیز میں تحقیقی کاموں میں اضافہ کے لئے خصوصی بجٹ مختص کیا جائے۔

      تلنگانہ کی زبانوں اور تہذیب کا تحفظ بھی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے، قیامِ تلنگانہ کے بعد سے اس سلسلہ میں بہت کم کوشش ہوئی ہے ، یہ اسی وقت ممکن ہے جب ابتداء سے اعلی سطح تک تعلیم کو مادری زبانوں میں فراہم کیا جائے۔ ایس آئی اوکا مطالبہ ہیکہ حکومت مادری زبانوں میں نصابی کتب کی فراہمی کے لیے بجٹ فراہم کرے نیز  ایسے تعلیمی مراکز قائم کرے جس کے ذریعہ مقامی کلچر اور زبانوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

      اس کے علاوہ ریاست میں جاری 8 میڈیکل کالجز کی تیاری کے کام کو حکومت فی الفور مکمل کرے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: