ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تسلیمہ نسرین نے کرکٹر معین علی پر دیا متنازعہ بیان، ٹرول ہونے پرکہا- طنز تھا

تسلیمہ نسرین (Taslima Nasreen) نے ٹوئٹ کیا تھا کہ اگر معین علی (Moeen Ali) کرکٹ نہیں کھیل رہے ہوتے تو وہ شاید آئی ایس آئی ایس جوائن کرنے شام جاچکے ہوتے۔ اس ٹوئٹ کے فوراً بعد تسلیمہ نسرین کو سخت ردعمل ملا ہے۔

  • Share this:
تسلیمہ نسرین نے کرکٹر معین علی پر دیا متنازعہ بیان، ٹرول ہونے پرکہا- طنز تھا
تسلیمہ نسرین نے کرکٹر معین علی پر دیا متنازعہ بیان، ٹرول ہونے پرکہا- طنز تھا

نئی دہلی: بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے انگلینڈ کے کرکٹر معین علی سے متعلق ایک متنازعہ ٹوئٹ کیا ہے۔ ٹوئٹ کے بعد ٹرولنگ ہونے پر تسلیمہ نسرین نے صفائی میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ طنز کے طور پر کیا گیا تھا۔ دراصل، پیر کو تسلیمہ نسرین نے ٹوئٹ کیا تھا- اگر معین علی کرکٹ نہیں کھیل رہے ہوتے تو وہ شاید آئی ایس آئی ایس جوائن کرنے شام جا چکے ہوتے۔ اس ٹوئٹ کے فوراً بعد تسلیمہ نسرین کا سخت ردعمل دیکھنے کو ملا۔

Anuradha Exwaized نام کی ایک ٹوئٹر صارف نے تسلیمہ نسرین سے پوچھا کہ ’کیا ایک مذہب پر عمل کرنے والا مسلم دہشت گرد ہے؟ کسی کو اپنے مذہب کی آزادی کے لئے دہشت گرد نہیں کہا جاسکتا‘۔ پلکت سنگھ نے نام کے ایک صارف نے تسلیمہ نسرین کے ٹوئٹ پر جواب دیتے ہوئے پوچھا- ’کیا وہ داڑھی رکھتے ہیں اور پاکستانی ہیں، اس لئے آپ ایسے سوال کھڑے کر رہی ہیں’؟


ناراضگی میں دی صفائی


ایسے سینکڑوں ٹوئٹس کے بعد اب تسلیمہ نسرین نے صفائی دیتے ہوئے کہا- نفرت پھیلانے والے جانتے ہیں کہ معین علی پر کیا گیا ٹوئٹ ایک طنز تھا، لیکن اسے مدعا اس لئے بنایا گیا کیونکہ میں مسلم معاشرے میں سیکولرازم پھیلانا چاہتی ہوں۔ میں اسلامک شدت پسندی کی مخالفت کرتی ہوں۔ انسانیت کی سب سے بڑی پریشانی ہے کہ خواتین کی حامی لیفٹسٹ خواتین مخالف اسلامک شدت پسندی کی حمایت کرتے ہیں۔

غصے میں تسلیمہ نسرین نے لکھا، ’اگر آپ اسلام کے علاوہ کسی دیگر مذہب کا جائزہ لیتے ہیں تو آپ کو پروگریسیو، فری تھنکر، لبرل سیکولر، دانشور ریوولیوشنری مانا جاتا ہے، لیکن اگر آپ اسلام کا جائزہ لیں تو آپ کو نفرت کرنے والا اور پیڈ ایجنٹ ایجنٹ بتایا جاتا ہے‘۔

کویتا کرشنن نے کھڑے کئے تھے سوال

دراصل تسلیمہ نسرین کے ٹوئٹ پر سی پی آئی ایم ایل کی لیڈر کویتا کرشنن نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تسلیمہ نسرین کو مصنفہ کے طور پر نہیں بلکہ شدت پسند شخص کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 06, 2021 10:42 PM IST