உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کنہیا لال کےقاتلوں کے خلاف فتویٰ، بریلوی علما نے کہا- سر دھڑ سے جدا جرم، قتل کی دھمکی بھی ناجائز

    Barelwai Ulema Fatwa: آج تنظیم علمائے اسلام نے میٹںگ کی اور اس حادثہ کے تمام پہلووں کو شریعت کی روشنی میں جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی۔ چونکہ یہ حادثہ اسلام مذہب کے نام پر کی گئی ہے، اس لئے اسلام کے رہنماوں کو آگے آکر شریعت کی بتائی ہوئی تعلیم کو صحیح انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت تھی۔ علما نے اتفاق رائے سے فتویٰ جاری کرکے اس حادثہ کو انجام دینے والوں مسلم قاتلوں کو شریعت کی عدالت میں مجرم قرار دیتے ہوئے ان دونوں کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔

    Barelwai Ulema Fatwa: آج تنظیم علمائے اسلام نے میٹںگ کی اور اس حادثہ کے تمام پہلووں کو شریعت کی روشنی میں جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی۔ چونکہ یہ حادثہ اسلام مذہب کے نام پر کی گئی ہے، اس لئے اسلام کے رہنماوں کو آگے آکر شریعت کی بتائی ہوئی تعلیم کو صحیح انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت تھی۔ علما نے اتفاق رائے سے فتویٰ جاری کرکے اس حادثہ کو انجام دینے والوں مسلم قاتلوں کو شریعت کی عدالت میں مجرم قرار دیتے ہوئے ان دونوں کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔

    Barelwai Ulema Fatwa: آج تنظیم علمائے اسلام نے میٹںگ کی اور اس حادثہ کے تمام پہلووں کو شریعت کی روشنی میں جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی۔ چونکہ یہ حادثہ اسلام مذہب کے نام پر کی گئی ہے، اس لئے اسلام کے رہنماوں کو آگے آکر شریعت کی بتائی ہوئی تعلیم کو صحیح انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت تھی۔ علما نے اتفاق رائے سے فتویٰ جاری کرکے اس حادثہ کو انجام دینے والوں مسلم قاتلوں کو شریعت کی عدالت میں مجرم قرار دیتے ہوئے ان دونوں کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔

    • Share this:
      بریلی: راجستھان کے ادے پور میں ٹیلرکنہیا لال کے قتل پر بریلوی علمائے کرام نے سخت رخ اختیار کیا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ درگاہ اعلیٰ حضرت کے مبلغ مولانا شہاب الدین نے کنہیا لال کے قاتلوں کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔ فتوے میں کہا گیا ہے کہ جو شخص کسی کا قتل کرے وہ شریعت کی روشنی میں مجرم اور سزا کا قاتل ہے۔ قانون کے ہاتھ میں لینے والا گنہگار ہے۔ سزا دینے کا حق صرف قانون کو ہے۔

      آج تنظیم علمائے اسلام نے میٹنگ کی اور اس حادثہ کے تمام پہلووں کو شریعت کی روشنی میں جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی۔ چونکہ یہ حادثہ اسلام مذہب کے نام پر کی گئی ہے، اس لئے اسلام کے رہنماوں کو آگے آکر شریعت کی بتائی ہوئی تعلیم کو صحیح انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت تھی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      نائب صدر یا گورنر بن سکتے ہیں مختار عباس نقوی!

      علمائے کرام نے اتفاق رائے سے فتویٰ جاری کرکے اس حادثہ کو انجام دینے والے دونوں مسلم قاتلوں کو شریعت کی عدالت میں مجرم قرار دیتے ہوئے ان دونوں کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔

      شریعت کی نظر میں مجرم

      مولانا شہاب الدین رضوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اعلیٰ حضرت نے اپنی کتاب ‘حسام الحرمین‘ میں اس طرح کے حادثات کے بارے میں فتویٰ دیا ہے کہ اسلامی حکومت یا غیر اسلامی حکومت میں اگر کوئی شخص یا بادشاہ کی اجازت کے بغیر کسی گستاخ نبی کو قتل کرتا ہے تو اس کا غازی ہونا درکنار بلکہ ایسا شخص شریت کی نظر میں مجرم ہوگا اور بادشاہ اسلام اسے سخت سزا دے گا۔ پھر اعلیٰ حضرت آگے فتوے میں لکھتے ہیں کہ ’جب اسلامی حکومت میں یہ حکم ہے تو جہاں اسلامی حکومت نہیں ہے وہاں تو پہلے درجے میں ہی ناجائز ہوگا اور گستاخ نبی کو قتل کرنے کی وجہ سے اپنی جان کو ہلاکت اور مصیبت میں ڈالنا ہوگا‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: