وزیر اعظم مودی نے کہا : سیم پترودا کو نہیں راہل گاندھی کو آنی چاہئے شرم

پنجاب کے بھٹنڈہ میں وزیر اعظم مودی نے 1984 کے سکھ فسادات پر سیم پترودا اور راہل گاندھی کے تبصرہ پر اپنا تیکھا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔

May 13, 2019 11:52 PM IST | Updated on: May 13, 2019 11:52 PM IST
وزیر اعظم مودی نے کہا : سیم پترودا کو نہیں راہل گاندھی کو آنی چاہئے شرم

وزیر اعظم مودی نے کہا : سیم پترودا کو نہیں راہل گاندھی کو آنی چاہئے شرم

پنجاب کے بھٹنڈہ میں وزیر اعظم مودی نے 1984 کے سکھ فسادات پر سیم پترودا اور راہل گاندھی کے تبصرہ پر اپنا تیکھا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سیم پترودا کو نہیں بلکہ راہل گاندھی کو شرم آنی چاہئے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ نامدار نے اپنے گرو کو ڈانٹنے کا ناٹک کس لئے کیا تھا ؟ کیونکہ انہوں نے عوامی طور پر وہ بات کہہ دی جو ہمیشہ سے کانگریس کے دل میں رہی ہے ؟ آپ ( راہل گاندھی) ہیں جنہیں شرما آنی چاہئے ۔

وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ سکھ فسادات کو آج 35 سال ہوگئے ہیں ۔ کانگریس کی کرتوتوں کی وجہ سے آج تک فسادات متاثرین کو جو انصاف ملنا چاہئے تھا ، وہ نہیں مل سکا ۔ کانگریس والے کمیٹی اور کمیشن بناتے رہ گئے اور اتنے سنگین معاملات کو رفع دفع کرتے رہے ۔ کانگریس کے دل میں جو ہمیشہ تھا ، وہ نامدار کے گرو نے عوامی طور پر راز کھول دیا ۔ کیا اس کیلئے نامدار انہیں ڈانٹ رہے ہیں ؟ کیا نامدار کے گرو کو گھر کی بات باہر بتانے کیلئے ڈانٹا جانا چاہئے ؟۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کانگریس کی پالیسیاں بنانے والے راجیو گاندھی جی کے خاص صلاح کار اور نامدار کے گرو نے سکھ فسادات کو لے کر جو کہا ، اس پر ملک میں کیا رد عمل ظاہر کیا گیا ، آپ بھی دیکھ رہے ہیں ۔ کانگریس کے ہمیشہ جو دل میں تھا وہ راز باہر آنے سے کانگریس میں افراتفری مچ گئی ہے۔ آپ کے چوکیدار نے آپ سے انصاف کا وعدہ کیا تھا ۔ بادل ( پرکاش سنگھ بادل ) صاحب کے آشیرواد سے میں آج اطمینان سے کہہ سکتا ہوں کہ 1984 کے سکھ فسادات کے ایک قصوروار کو پھانسی کے پھندے تک پہنچایاہے ، کچھ کو عمر قید کی سزا ہوئی ہے جو باقی بچے ہیں انہیں بھی جلد سزا ملے گی ۔

پوری ریلی میں کانگریس پر حملہ آور رہے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ان لوگوں کی ایک اور تاریخی غلطی ہے ، جس کو سدھارنے کا کام اب ہورہا ہے ۔ سال 1947 میں کانگریس نے تقسیم تو کرا دیا ، لیکن ہماری عقیدت کا مرکز کرتار پور صاحب کو کچھ ہی کلو میٹر کے فاصلے میں پاکستان میں جانے دیا ۔ ہندوستان کو 21 ویں صدی کی عظیم طاقت بنانے کیلئے ایک مرتبہ پھر مضبوط سرکار کی ضرورت ہے ، یہی وجہ ہے کہ چھ مرحلوں میں ملک نے این ڈی اے کے حق میں ووٹ کیا ہے ۔

Loading...

Loading...