ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اسمبلی انتخابات 2021: سستا کھانا، غریب سے دوستی، اب بنگال کی باری

ملک کی انتخابی ہوا بہار ہوتے ہوئے اب بنگال پہنچ گئی ہے۔ بحث کے مرکز میں ممتا بنرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ سال کا سب سے بڑا سوال، کس کا ہوگا بنگال؟ لیکن بنگال کی اقتدار کس کے ہاتھوں جائے گی۔ کس کے ہاتھوں سے پھسلے گی، اس سوال کے درمیان ایک بڑا کردار ہوتا ہے انتخابی وعدوں کا۔ الیکشن سے ٹھیک پہلے سیاسی پارٹیاں وعدوں اور سوغاتوں کا پٹارہ کھولتی ہیں۔ اسی کڑی کا حصہ ہیں ممتا بنی کی ’ماں یوجنا‘- سستا کھانا، غریب سے دوستی، اب بنگال کی باری‘۔

  • Share this:
اسمبلی انتخابات 2021: سستا کھانا، غریب سے دوستی، اب بنگال کی باری
اسمبلی انتخابات 2021: سستا کھانا، غریب سے دوستی، اب بنگال کی باری

نئی دہلی: ملک کی انتخابی ہوا بہار ہوتے ہوئے اب بنگال پہنچ گئی ہے۔ بحث کے مرکز میں ممتا بنرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ سال کا سب سے بڑا سوال، کس کا ہوگا بنگال؟ لیکن بنگال کی اقتدار کس کے ہاتھوں جائے گی۔ کس کے ہاتھوں سے پھسلے گی، اس سوال کے درمیان ایک بڑا کردار ہوتا ہے انتخابی وعدوں کا۔ الیکشن سے ٹھیک پہلے سیاسی پارٹیاں وعدوں اور سوغاتوں کا پٹارہ کھولتی ہیں۔ اسی کڑی کا حصہ ہیں ممتا بنی کی ’ماں یوجنا‘- سستا کھانا، غریب سے دوستی، اب بنگال کی باری‘۔


ممتا بنرجی نے اپنی پارٹی ترنمول کانگریس کا نعرہ ’ماں، ماٹی اور مانوش سے ماں لفظ لے کر اس اسکیم کی شروعات کی ہے۔ کولکاتا سے شروع ہوئی اس اسکیم میں 16 کامن کچن ہوں گے، جس میں پانچ روپئے میں ایک تھالی کھانا ملے گا۔ اس تھالی میں چاول، دال سبزی اور انڈا ہوگا۔ حکومت اس اسکیم کو دھیرے دھیرے مغربی بنگال کے الگ الگ شہروں میں نافذ کرنا چاہتی ہے۔


جنوب سے لے کر شمال تک، انتخابی پالیسی ساز پرشانت کشور جہاں جہاں گئے ہیں، وہاں وہاں انہوں نے اس طرح کی اسکیم شروع کرنے کا آئیڈیا دیا ہے، لیکن اس اسکیم کی شروعات سب سے پہلے تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للتا نے کی تھی، جنہوں نے سب سے پہلے اپنی ریاست میں اماں کچن شروع کیا۔


سال 2017 میں جب پرشانت کشور یوپی اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس کے پالیسی ساز تھے تب سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے مل کر الیکشن لڑا۔ اس وقت موجودہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی حکومت بنتی ہے تو اماں کچن کے طرز پر ہی سماجوادی کچن کی شروعات کریں گے۔

چونکہ الیکشن قریب ہیں، اس لئے ممتا حکومت کی اسکیم پر سوال ضرور اٹھیں گے، لیکن لاک ڈاون کے وقت کمیونٹی کچن نے اہم رول ادا کیا۔ ملک کے کروڑوں لوگوں کو کمیونٹی کچن کے ذریعہ مفت میں کھانا ملا۔ آج کئی ریاستی حکومتیں اس طرح کی اسکیم چلا رہی ہیں۔ اس طرح کی اسکیم کا اہم مقصد شہری غریبوں کو کم قیمت پر غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنا ہے۔ حالانکہ کمیونٹی کچن کا تصور مہاتما گاندھی نے آج سے تقریباً 100 سال پہلے ہی کی تھی۔

مہاتما گاندھی مانتے تھے کہ کھانا بنانا سیکھنا، ہمارے تعلیمی سسٹم کا حصہ ہونا چاہئے۔ جنوبی افریقہ سے واپس آنے کے بعد مہاتما گاندھی جب پہلی بار کولکاتا کے شانتی نکیتن گئے تو انہیں وہاں کے طلبا کے طور طریقے پسند نہیں آئے۔ انہیں لگا کہ طلبا پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنا کام بھی خود کریں۔ 10 مارچ 1915 کو رویندر ناتھ ٹیگور کی رضا مندی سے مہاتما گاندھی نے شانتی نکیتن میں سیلف ہیلپ موومنٹ کا آغاز کیا۔ وہاں کمیونٹی کچن کی شروعات ہوئی، جس میں طلبا باری باری سے سب کے لئے کھانا بناتے تھے۔

ملک کی انتخابی ہوا بہار ہوتے ہوئے اب بنگال پہنچ گئی ہے۔ بحث کے مرکز میں ممتا بنرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ سال کا سب سے بڑا سوال، کس کا ہوگا بنگال؟ لیکن بنگال کی اقتدار کس کے ہاتھوں جائے گی۔ کس کے ہاتھوں سے پھسلے گی، اس سوال کے درمیان ایک بڑا کردار ہوتا ہے انتخابی وعدوں کا۔
ملک کی انتخابی ہوا بہار ہوتے ہوئے اب بنگال پہنچ گئی ہے۔ بحث کے مرکز میں ممتا بنرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ سال کا سب سے بڑا سوال، کس کا ہوگا بنگال؟ لیکن بنگال کی اقتدار کس کے ہاتھوں جائے گی۔ کس کے ہاتھوں سے پھسلے گی، اس سوال کے درمیان ایک بڑا کردار ہوتا ہے انتخابی وعدوں کا۔


جے للتا نے کی تھی شروعات

سب سے پہلے 19 فروری سال 2013 میں تمل ناڈو حکومت نے اماں اناوگم (Amma Unavagam) یعنی کی اماں کینٹین کا آغاز کیا تھا۔ اس منصوبہ کے تحت ریاست کے میونسپل کارپوریشن سبسڈائز ریٹ پر پکا ہوا کھانا دیتے ہیں۔ تمل ناڈو کے اماں کینٹین میں ساوتھ انڈین کھانا ملتا ہے، جس میں ایک روپئے میں اڈلی، 5 روپئے فی پلیٹ کے حساب سے سانبھار اور چاول، 3 روپئے فی پلیٹ کے حساب سے دہی چاول ملتا ہے۔ تمل ناڈو کے بعد ملک کے کئی ریاستوں نے یہ ماڈل اپنایا۔ کرناٹک، تلنگانہ، مہاراشٹر، اوڈیشہ کی حکومتوں نے بھی کمیونٹی کچن کی شروعات کی۔

کرناٹک میں اندرا کینٹین

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے شہری غریبوں کو کم قیمت پر تین وقت کا کھانا دینے کے لئے اندرا کینٹین کا آغاز کیا تھا۔ 16 اگست 2017 کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کرناٹک کے بنگلورو میں اس اسکیم کا افتتاح کیا تھا۔ بعد میں اسے بنگلورو کے علاوہ ریاست کے چھوٹے شہروں میسور، منگلور، شموگا، ہبلی، کلبرگی میں بھی شروع کیا گیا۔

منہاراشٹر میں شیو بھوجن اسکیم

مہاراشٹر حکومت نے 26 جنوری 2020 کو شیو بھوجن اسکیم کا آغاز کیا۔ اس اسکیم کا مقصد 10 روپئے میں کھانا فراہم کرانا ہے۔ لاک ڈاون کے دوران تھالی کی قیمت کم کرکے 5 روپئے کردیا گیا تھا۔ شیو بھوجن تھالی میں دو روٹیاں، ایک سبزی، تھوڑا چاول اور دال پروسی جاتی ہے۔

تلنگانہ میں انا پورنا

تلنگانہ میں سال 2014 میں ریاستی حکومت نے انا پورنا اسکیم کا آغاز کیا۔ اس اسکیم کے تحت گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن علاقے میں پانچ روپئے فی تھالی کے حساب سے کھانا دیا جاتا ہے۔ سال 2014 میں 8 مقامات سے اس کا آغاز کیا گیا تھا، لیکن اب 150 مراکز سے روزانہ تقریباً 25 ہزار لوگوں کو سستی شرح پر پکا ہوا کھانا دستیاب کرایا جا رہا ہے۔

آندھرا پردیش میں این ٹی آر کینٹین

آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ نارا چندرا بابو نائیڈو نے این ٹی آر کینٹین کی شروعات کی تھی، جس میں ناشتہ، دوپہرا کا کھانا اور رات کا کھانا ملتا تھا۔ ناشتہ 5 روپئے میں اور کھانا 15 روپئے فی تھالی کے حساب سے ملتا تھا، لیکن سال 2019 میں وائی ایس جگن موہن ریڈی کی حکومت نے اس اسکیم کو بند کردیا۔

لاک ڈاون کا دائرہ بڑھا

ان ریاستوں کے علاوہ بھی ملک کے کئی ریاستوں نے اس طرح کی اسکیمیں شروع کیں۔ خاص طور پر کورونا وبا کے دوران، لاک ڈاون میں کئی ریاستی نے مفت میں بھی پکا ہوا کھانا دستیاب کرایا۔ جھارکھنڈ اور بہار جیسی ریاستوں نے بھی لاک ڈاون کے دوران پکا ہوا بھوجن مفت میں لوگوں تک پہنچایا۔ بھلے ہی کم دام پر پکا ہوا کھانا دستیاب کرانے کی یہ اسکیمیں گزشتہ 8 سال میں ہی شروع ہوئی ہیں، لیکن کچا اناج مرکز پہلے سے غریبوں کو دستیاب کراتی رہی ہے۔ قومی فوڈ سیکیورٹی ایکٹ کے تحت 75 فیصدی دیہی اور 50 فیصدی شہری آبادی کو سستا اناج دستیاب کرانے کا ہدف رکھا گیا۔

کمیونٹی کچن کی تاتیخ

کمیونٹی کچن کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے، جتنی کی سکھ مذہب۔ 15 ویں صدی میں سکھ مذہب کے بانی اور پہلے گرو نانک دیو نے لنگر یعنی کی کمیونٹی کچن کی شروعات کی۔ لنگر لفظ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے، غریبوں کے لئے شرن۔ پورے ملک کے گرودواروں میں جو لنگر چلائے جاتے ہیں، وہ کمیونٹی کچن کی بہترین مثال ہے۔

گلوبل ہنگر انڈیکس

سال 2020 کے گلوبل ہنگر اینڈیکس کے 107 ممالک کی فہرست میں ہندوستان 94 ویں نمبر پر ہے۔ ڈیٹا کے مطابق، ہندوستان کی 14 فیصد آبادی غذائیت کا شکار ہے۔ جی ایچ آئی کے ڈیٹا کے 2020 کے مطابق، پڑوسی بنگلہ دیش، میانمار، پاکستان ہم سے تھوڑی بہتر حالت میں ہیں۔ یعنی ہندوستان میں ایسے اور کمیونٹی چکن کھولے جانے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم سستی شرح پر لوگوں کو پکا ہوا بھوجن فراہم کرا پائیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 15, 2021 09:30 PM IST